المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. من تلبية رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم -
رسولُ اللہ ﷺ کے تلبیہ کے الفاظ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1671
أخبرَناه عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الله بن أبي لَبيد، عن المُطَّلب بن عبد الله بن حَنْطَب، عن خَلَّاد بن السائب، عن زيد بن خالد الجُهَنيِّ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"جاءني جبريلُ فقال: يا محمد، مُرْ أصحابَك فليرفَعوا صِياحَهم بالتَّلبية، فإنها شِعارُ الحج" (1) . وقيل: عن المطَّلب بن عبد الله بن حَنْطب عن أبي هريرة:
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” سیدنا جبرائیل علیہ السلام میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے محمد! اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دو کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ کہا کریں کیونکہ یہ حج کی علامت ہے۔ ٭٭ بعض راویوں نے یہ حدیث مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے (جیسا کہ مندرجہ ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1671]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1671 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح سفيان: هو ابن سعيد الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ سفیان سے مراد الثوری ہیں۔
وأخرجه أحمد 36/ (21678)، وابن ماجه (2923)، وابن حبان (3803) من طريق وكيع، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (36/ 21678)، ابن ماجہ اور ابن حبان نے وکیع کی سند سے روایت کیا ہے۔