المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
33. تقبيل الركن اليماني ووضع الخد عليه
رکنِ یمانی کو بوسہ دینے اور اس پر رخسار رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1694
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّة الأصبهاني، حدثنا عبد الله بن محمد بن زكريا، حدثنا بِشْر بن خالد العسكري، حدثنا المُعتمِر بن سليمان، قال: سمعتُ عبد العزيز بن أبي رَوَّاد يحدِّث عن نافع، عن ابن عمر: أَنَّ نبيَّ الله ﷺ كان إذا طاف بالبيت مَسَحَ - أو قال: استَلَم - الحَجَرَ والرُّكنَ في كلِّ طواف (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کا طواف کرتے تو ہر طواف میں رکن اور حجر اسود کو ہاتھ لگاتے یا استلام کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1694]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1694 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي من أجل عبد العزيز بن أبي رواد.
⚖️ درجۂ حدیث: عبدالعزیز بن ابی رواد کی وجہ سے یہ سند قوی ہے۔
وأخرجه أحمد 8/ (4686) و 10/ (5965) و (6395)، وأبو داود (1876)، والنسائي (3914) من طرق عن عبد العزيز بن أبي رواد بهذا الإسناد. ¤ ¤ورواه غير واحد عن نافع لم يذكروا أنه كان يستلمهما في كل طواف، فقد أخرج أحمد 8 / (4888) و 9/ (4986)، والنسائي (3903) من طريق أيوب السختياني، وأحمد 8/ (4463) و 9 / (5201) و (5239) و 10/ (5875)، والبخاري (1606)، ومسلم (1268) (245) من طريق عبيد الله بن عمر العمري، كلاهما عن نافع، عن ابن عمر قال: ما تركت استلام هذين الركنين في شدة ولا رخاء منذ رأيت النبي ﷺ يستلمهما. واللفظ للبخاري.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابوداؤد (1876) اور نسائی نے عبدالعزیز بن ابی رواد کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: کئی راویوں نے اسے نافع سے بغیر اس صراحت کے روایت کیا ہے کہ وہ ہر طواف میں استلام کرتے تھے (بخاری 1606، مسلم 1268)۔
وأخرج أحمد 10 / (5945) من طريق عبد الله - مكبرًا - بن عمر العمري، ومسلم (1267) (244)، والنسائي (3918) من طريق عبيد الله بن عمر العمري، كلاهما عن نافع، عن ابن عمر ذكر أنَّ رسول الله ﷺ كان لا يستلم إلّا الحجر والركن اليماني. وهذا لفظ عبيد الله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، مسلم اور نسائی نے عبید اللہ بن عمر العمری کی سند سے نافع سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ صرف حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کا استلام فرماتے تھے۔
وأخرج مسلم (1268) (246)، وابن حبان (3824) من طريق عبيد الله العمري أيضًا، عن نافع قال: رأيت ابن عمر يستلم الحجر بيده ثم قبَّل يده، وقال ما تركته منذ رأيت رسول الله ﷺ يفعله.
📖 حوالہ / مصدر: صحیح مسلم اور ابن حبان کے مطابق حضرت ابن عمر ؓ حجرِ اسود کا ہاتھ سے استلام کرتے پھر اپنا ہاتھ چومتے تھے، اور فرماتے کہ جب سے نبی ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا، میں نے اسے نہیں چھوڑا۔
وأخرج أحمد 10/ (6272) من طريق حجاج بن أرطاة، عن عطاء بن أبي رباح وابن أبي مليكة، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ حين دخل مكة استلم الحجر الأسود والركن اليماني ولم يستلم غيرهما من الأركان.
📖 حوالہ / مصدر: مسند احمد میں مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مکہ داخل ہوئے تو حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کا استلام کیا اور ان کے علاوہ کسی رکن کا استلام نہیں کیا۔
وقد روي الحديث أيضًا بنحوه من وجهين آخرين عن ابن عمر، فقد أخرجه أحمد 8/ (4887) و 9 / (5622) و 10/ (6017)، والبخاري (1609)، ومسلم (1267) (242) و (243)، وأبو داود (1874)، وابن ماجه (2946)، والنسائي (3915) و (3919)، وابن حبان (3827) من طريق سالم بن عبد الله بن عمر، وأحمد 8 / (4672) و 9/ (5338) و 10 / (5894)، والبخاري (166) و (5851)، وأبو داود (1772)، والنسائي (3917)، وابن حبان (3763) من طريق عبيد بن جريج، كلاهما عن عبد الله بن عمر، مرفوعًا. وحديث عبيد بن جريج جاء ضمن حديث مطول، وفيه: أما الأركان فإني لم أر رسول الله ﷺ يمس إلّا اليمانيين.
🧾 تفصیلِ روایت: اسی مفہوم کی روایات سالم بن عبد اللہ اور عبید بن جریج کے طریقوں سے احمد، بخاری، مسلم اور سننِ اربعہ میں موجود ہیں۔ عبید بن جریج کی طویل حدیث میں ہے کہ: "ارکان میں سے میں نے رسول اللہ ﷺ کو صرف دو یمانی ارکان کو چھوتے دیکھا ہے"۔