المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
41. فضيلة الحج ماشيا
پیدل حج کرنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1713
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا يحيى بن سعيد، عن القاسم بن محمد، عن عبد الله بن الزُّبير قال: من سُنَّةِ الحجِّ أن يُصلِّي الإمامُ الظُّهرَ والعصرَ والمغربَ والعِشاءَ الآخرةَ والصُّبحَ بمنًى، ثم يَغدُوَ إلى عَرَفةَ، فيَقيلَ حيثُ قُضِي له، حتى إذا زالت الشمسُ خَطَبَ الناسَ، ثم صلَّى الظُّهرَ والعصرَ جميعًا، ثم وَقَفَ بعرفاتٍ حتى تَغيبَ الشمسُ، ثم يُفيض فيصلِّي بالمُزدلِفَةِ أو حيثُ قَضَى الله، ثم يقفُ بجَمْعٍ، حتى [إذا] أسفَرَ دَفَعَ قبلَ طُلوع الشمس، فإذا رَمَى الجمرةَ الكُبرى حلَّ له كلُّ شيءٍ حَرُمَ عليه إلَّا النساءَ والطِّيبَ حتى يَزورَ البيت (1) .
هذا حديث على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حج کا طریقہ یہ ہے کہ امام ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نماز منٰی میں پڑھے، پھر صبح سویرے عرفات کی طرف چلا جائے پھر اس کے لیے اللہ کا جو فیصلہ ہو گا، اس کے مطابق اس کی عبادات قبول کی جائیں گی۔ یہاں تک کہ جب سورج ڈھل جائے، تو وہ لوگوں کو خطبہ دے، پھر ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی پڑھے، پھر غروب آفتاب تک عرفات میں ٹھہرا رہے۔ (سورج غروب ہونے کے بعد) وہاں سے (مزدلفہ کی طرف) نکل جائے اور مزدلفہ میں جا کر نماز ادا کرے یا جہاں اللہ فیصلہ کرے۔ پھر صبح تک وہاں ٹھہرا رہے۔ اور طلوع آفتاب سے پہلے اس (وقوف) کو ختم کر دے پھر جب بڑے شیطان کو کنکریاں مار لے تو عورت اور خوشبو کے علاوہ ہر وہ چیز اس پر حلال ہو جائے گی (جو حالتِ احرام میں) حرام تھی۔ یہاں تک کہ وہ بیت اللہ کی زیارت کر لے (کہ اس کے بعد عورت اور خوشبو بھی حلال ہو جاتی ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1713]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1713 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. إبراهيم بن عبد الله: هو السعدي أبو إسحاق التميمي، ويحيى بن سعيد: هو الأنصاري، والقاسم بن محمد: هو ابن أبي بكر الصديق.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابراہیم بن عبداللہ السعدی، یحییٰ بن سعید الانصاری اور قاسم بن محمد ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه البيهقي 5/ 122 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: بیہقی (5/122) نے اسے حاکم کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (2801) عن محمد بن الوليد، عن يزيد بن هارون، به.
📖 حوالہ / مصدر: ابن خزیمہ (2801) نے یزید بن ہارون کے واسطے سے اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه تامًا: ابن خزيمة (2800)، والطبراني في "الكبير" (14850)، ومختصرًا: ابن أبي شيبة (14760 - عوامة)، وابن خزيمة (2798)، وابن عبد البر في "الاستذكار" (15801) من طرق عن يحيى بن سعيد الأنصاري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ، طبرانی، ابن ابی شیبہ اور ابن عبدالبر نے مختلف طرق سے یحییٰ بن سعید الانصاری سے روایت کیا ہے۔