🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. ضحى النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - عن أمته
رسولُ اللہ ﷺ نے اپنی پوری امت کی طرف سے قربانی کی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1734
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثنا محمد بن إسحاق. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعيُّ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يعقوب بن إبراهيم، حدثني أبي، عن ابن إسحاق، حدثني يزيد بن أبي حَبِيب المِصْري، عن خالد بن أبي عِمْران، عن أبي عيّاش، عن جابر بن عبد الله الأنصاري: أنَّ رسولَ الله ﷺ ذَبَحَ يومَ العيد كَبشَين، ثم قال حين وَجَّهَهما:" ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [الأنعام: 79] ، ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (162) لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ [الأنعام: 162، 163] ، باسمِ الله، واللهُ أكبرُ، اللهمَّ منكَ ولكَ عن محمدٍ وأُمّتِه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن دو مینڈھے ذبح کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو قبلہ رُو لٹا لیا تو یوں دعا مانگی: (وجھت وجھی للذی فطر السماوات والارض حنیفا وما انا من المشرکین، انّ صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للّٰہِ رب العالمین لا شریک لہ، وبذلک امرت وانا اول المسلمین (الانعام: 162) بسم اللہ واللہ اکبر، اللھمّ منک ولک عن محمد وّأمّۃ۔) میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے، ایک اسی کا ہو کر اور میں مشرکوں میں نہیں، تم فرماؤ بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رب سارے جہان کا، اس کا کوئی شریک نہیں مجھے یہی حکم ہوا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔ (پھر) (بسم اللہ واللہ اکبر اللّٰھمّ منک ولک عن محمدٍ وّأمّتہ) (پڑھ کر جانور ذبح کر دیا)۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1734]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1734 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده محتمل للتحسين، أبو عياش - وهو ابن النعمان المعافري المصري - روى عنه ثلاثة، ولم يؤثر توثيقه عن أحد، لكن صحَّح حديثه هذا ابن خزيمة والمصنِّف. يعقوب بن ¤ ¤ إبراهيم: هو ابن سعد الزهري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس سند کو "حسن" قرار دیا جا سکتا ہے۔ ابو عیاش المصری سے تین راویوں نے روایت کی ہے، اگرچہ صریح توثیق نہیں ملی مگر ابن خزیمہ اور حاکم نے ان کی اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
وهو في "مسند أحمد" 23/ (15022).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" (23/15022) میں موجود ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (2899) من طريق يعقوب بن إبراهيم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (2899) نے یعقوب بن ابراہیم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الدارمي (1989)، والطحاوي 4/ 177، والبيهقي 9/ 287 من طريق أحمد بن خالد، وأبو داود (2795)، والبيهقي 9/ 287 من طريق عيسى بن يونس، وابن ماجه (3121) من طريق إسماعيل بن عياش، والمزي في ترجمة أبي عياش من "تهذيب الكمال" 34/ 163 - 164 من طريق يزيد بن زريع، أربعتهم عن محمد بن إسحاق، عن يزيد بن أبي حبيب، عن أبي عياش، به. بإسقاط خالد بن أبي عمران.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دارمی، طحاوی، بیہقی، ابوداؤد (2795) اور ابن ماجہ (3121) نے مختلف طرق سے محمد بن اسحاق کے واسطے سے روایت کیا ہے، مگر ان سب نے خالد بن ابی عمران کا واسطہ گرایا (حذف کیا) ہے۔
وتفرَّد عيسى بنُ يونس من بين أصحاب ابن إسحاق الخمسة بزيادة "مَوجِيَّين" (يعني مخصيَّين)، وهي زيادة شاذَّة. وقد جاءت هذه الزيادة أيضًا في حديث عبد الله بن محمد بن عقيل فيما سيأتي برقم (7738)، وإسناده ضعيف لاضطرابه.
🔍 علّت / فنی نکتہ: ابن اسحاق کے پانچ شاگردوں میں سے صرف عیسیٰ بن یونس نے "مخصی" (موجِيَّين) کے الفاظ زیادہ کیے ہیں، جو کہ "شاذ" (غیر محفوظ) اضافہ ہے۔ یہی اضافہ آگے نمبر (7738) پر بھی آئے گا مگر وہ سند مضطرب اور ضعیف ہے۔
وسيأتي حديث جابر من طريق آخر عند المصنف برقم (7744) بدون ذكر الآيات.
🔁 تکرار: حضرت جابرؓ کی حدیث آگے نمبر (7744) پر بغیر آیات کے ذکر کے آئے گی۔
وفي باب أضحيّة النبي ﷺ عنه وعن أمّته، انظر أحاديث حذيفة بن أَسيد وعائشة - أو أبي هريرة - وأبي سعيد وأبي رافع الآتية عند المصنف على التوالي بالأرقام (6665) و (7738) و (7740) و (7745)، وليس في شيء منها ذكر الآيات.
🧩 متابعات و شواہد: نبی ﷺ کی اپنی امت کی طرف سے قربانی کے باب میں حذیفہ بن اسید، عائشہؓ، ابوہریرہؓ اور ابورافع کی احادیث آگے آئیں گی، مگر ان میں سے کسی میں بھی آیاتِ قرآنی پڑھنے کا ذکر نہیں ہے۔