المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
55. كم حج النبى - صلى الله عليه وآله وسلم -
نبی ﷺ نے کتنے حج کیے۔
حدیث نمبر: 1747
أخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا إسماعيل بن مُسلِم، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن عباس قال: الحجُّ والعُمرةُ فريضَتانِ على الناس كلِّهم إلَّا أهلَ مكةَ، فإنَّ عُمرتَهم طوافُهُم، فليَخرُجوا إلى التَّنعيم ثم لْيدخُلوها، فوالله ما دَخَلَها رسولُ الله ﷺ إلَّا حاجًّا أو مُعتمِرًا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد أُسنِد عن محمد بن كثير بإسنادٍ آخر:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد أُسنِد عن محمد بن كثير بإسنادٍ آخر:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حج اور عمرہ دونوں اہل مکہ کے سوا تمام لوگوں پر فرض ہے کیونکہ اہل مکہ کا طواف ہی عمرہ ہے، ان کو چاہیے کہ مقام تنعیم کی طرف نکل جائیں پھر وہاں سے داخل ہوں، کیونکہ خدا کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے صرف حج اور عمرہ کرنے کے لیے ہی داخل ہوئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور محمد بن کثیر نے اس حدیث کو ایک دوسری اسناد کے ہمراہ مسند بھی کیا ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1747]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1747 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده ضعيف بمرّة من أجل إسماعيل بن مسلم: وهو المكي أبو إسحاق البصري.
⚖️ درجۂ حدیث: اسماعیل بن مسلم المکی کی وجہ سے یہ سند "سخت ضعیف" (ضعیف بمرّة) ہے۔
وأخرجه الدارقطني في "السنن" (2717) من طريق محمد بن سعيد بن غالب، عن محمد بن كثير، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی (2717) نے محمد بن کثیر کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج الدارقطني (2721) - ومن طريقه البيهقي 4/ 352 - من طريق إبراهيم بن محمد بن أبي يحيى، عن داود بن الحصين، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: العمرة واجبة كوجوب الحج، وهو الحج الأصغر. وإبراهيم بن أبي يحيى هذا متروك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی اور بیہقی نے ابراہیم بن ابی یحییٰ کے طریق سے روایت کیا ہے کہ 'عمرہ بھی حج کی طرح واجب ہے اور یہ حجِ اصغر ہے'۔ ⚖️ درجۂ حدیث: ابراہیم بن ابی یحییٰ "متروک" راوی ہے۔
وأخرج الدارقطني أيضًا (2720/ 2) - ومن طريقه البيهقي 4/ 351 - من طريق ابن جريج قال: أُخبرت عن عكرمة، عن ابن عباس قال: العمرة واجبة كوجوب الحج من استطاع إليه سبيلًا. وهذا إسناد ضعيف لإبهام الواسطة بين عكرمة وابن جريج. وسيأتي خبر ابن جريج هذا بإثر حديث ابن عمر برقم (1750). ¤ ¤ لكن أخرج ابن أبي شيبة في "مصنفه" (13839 - عوامة)، وابن أبي حاتم في "التفسير" 1/ 334 من طرق عن فضيل بن غزوان، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: العمرة الحجة الصغرى. لم يقل: العمرة واجبة كوجوب الحج، وهذا إسناد صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: ابن جریج کی روایت میں واسطہ مبہم ہونے کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔ البتہ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے فضیل بن غزوان عن عکرمہ عن ابن عباسؓ سے "صحیح سند" کے ساتھ روایت کیا ہے کہ: "عمرہ حجِ اصغر ہے"۔ (اس میں وجوب کا ذکر نہیں)۔
وأخرج الدارقطني (2722) - ومن طريقه البيهقي 4/ 352 - عن محمد بن محمود الواسطي، عن محمد بن عبد الملك بن مروان، عن يزيد بن هارون، عن ورقاء بن عمر، عن أبي إسحاق الشيباني الكوفي، عن عبد الله بن شداد، عن ابن عباس قال: الحج الأكبر يوم النحر، والحج الأصغر والعمرة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی اور بیہقی نے یزید بن ہارون کے طریق سے روایت کیا ہے کہ "حجِ اکبر قربانی کا دن ہے اور حجِ اصغر عمرہ ہے"۔
وأخرج الشافعي في "الأم" 3/ 327، والبيهقي في "السنن الكبرى" 4/ 351، وفي "المعرفة" (9274)، وابن عبد البر في "التمهيد" 20/ 16 من طريق سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن طاووس، عن ابن عباس أنه قال: والذي نفسي بيده، إنها لقرينتها في كتاب الله: ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾. وعلَّقه البخاري بين يدي الحديث (1773).
📖 حوالہ / مصدر: امام شافعی، بیہقی اور ابن عبدالبر نے صحیح سند کے ساتھ طاؤس عن ابن عباسؓ سے روایت کیا کہ "بخدا! عمرہ کتاب اللہ میں حج کا ساتھی ہے (جیسا کہ آیت اتموا الحج والعمرہ میں ہے)"۔ امام بخاری نے بھی اسے معلقاً ذکر کیا ہے۔
وأخرج الجصاص في "أحكام القرآن" 1/ 331 من طريق محمد بن الفضل بن عطية، عن سالم الأفطس، عن ابن عباس رفعه: "الحج جهاد، والعمرة تطوع". ومحمد بن الفضل بن عطية متروك.
📖 حوالہ / مصدر: جصاص نے محمد بن الفضل کے طریق سے ایک مرفوع روایت نقل کی ہے کہ "حج جہاد ہے اور عمرہ نفل ہے"۔ ⚖️ درجۂ حدیث: محمد بن الفضل "متروک" راوی ہے۔
وفي باب وجوب العمرة أيضًا عن جابر بن عبد الله قال: ليس من خلق الله أحد إلّا وعليه عمرة واجبة. أخرجه ابن خزيمة (3067)، وابن عدي في "الكامل" 4/ 150، والدارقطني (2724)، والبيهقي 4/ 350 - 351. وإسناده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: وجوبِ عمرہ کے باب میں حضرت جابرؓ کا قول بھی مروی ہے کہ 'ہر مخلوق پر عمرہ واجب ہے'؛ مگر اس کی سند ضعیف ہے۔
وروي من حديث جابر مرفوعًا ما يخالف هذا، فقد أخرج أحمد 22/ (14397) و (14845)، والترمذي (931) عن جابر قال: أتى النبيَّ ﷺ أعرابيٌّ فقال: يا رسول الله، أخبرني عن العمرة، أواجبة هي؟ فقال رسول الله ﷺ: "لا، وأن تعتمر خير لك". وإسناده ضعيف أيضًا، انظر الكلام عليه في "المسند".
🧩 متابعات و شواہد: حضرت جابرؓ سے اس کے خلاف مرفوع روایت بھی مروی ہے کہ 'عمرہ واجب نہیں بلکہ نفل ہے'؛ مگر اس کی سند بھی ضعیف ہے، تفصیل مسند احمد میں دیکھیں۔