🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
56. الحج والعمرة فريضتان
حج اور عمرہ دونوں فرض ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1750
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، أخبرنا إبراهيم بن موسى، حدثنا هشام بن يوسف، وعبد المجيد بن عبد العزيز، عن ابن جُريج قال: أخبَرَني نافع مولى ابن عمر: أَنَّ عبد الله بن عمر كان يقول: ليس من خَلْقِ اللهِ أحدٌ إِلَّا عليه حَجَّةٌ وعُمرةٌ واجبتانِ مَن استطاع إلى ذلك سبيلًا، فمَن زادَ بعدها شيئًا فهو خيرٌ وتطوُّع. قال ابن جريج (1) : وأُخبِرتُ عن ابن عباسٍ أنه قال: العُمرةُ واجبةٌ كوُجوب الحجِّ مَن استطاع إليه سبيلًا (2) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نافع بیان کرتے ہیں: عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: ہر اس شخص پر حج اور عمرہ فرض ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور وہ حج کی استطاعت رکھتا ہو اور اگر کوئی شخص اس کے بعد اضافی حج کرے تو بہتر ہے اور اس کے لیے وہ نفلی حج و عمرہ ہو گا۔ ابن جریج فرماتے ہیں: مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا ہے کہ صاحب استطاعت پر جس طرح حج فرض ہے اسی طرح عمرہ بھی واجب ہے۔ ٭٭ یہ اسناد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1750]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1750 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هو موصول بالإسناد السابق. وخبر ابن عباس هذا سلف بنحوه موصولًا من وجه آخر عن ابن عباس برقم (1747)، وسلف تخريجه هناك.
📌 اہم نکتہ / خلاصہ: یہ سابقہ سند سے متصل ہے، اور ابن عباسؓ کی یہ خبر پیچھے نمبر (1747) پر گزر چکی ہے۔
(2) إسناده صحيح. أبو بكر بن إسحاق: اسمه أحمد، وإبراهيم بن موسى: هو الرازي، وهشام بن يوسف: هو الصنعاني، وابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابراہیم بن موسیٰ سے مراد الرازی، ہشام بن یوسف سے مراد الصنعانی اور ابن جریج سے مراد عبد الملک ہیں۔
وأخرجه البيهقي 4/ 351 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (4/351) نے ابوعبداللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الدارقطني (2720/ 1، 2) من طريق سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، عن عبد المجيد بن عبد العزيز، به. وقرن بعبد المجيد هشام بن سليمان بن عكرمة المخزومي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی (2720) نے عبدالمجید بن عبدالعزیز کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرج خبر ابن عمر بنحوه مطولًا ومختصرًا ابن أبي شيبة (13835 - عوامة)، وعبد بن حميد في "التفسير" كما في "تغليق التعليق" لابن حجر 3/ 117، وابن خزيمة (3066)، وابن أبي حاتم في "التفسير" 1/ 335، وابن عبد البر في "التمهيد" 20/ 16 من طرق عن ابن جريج، به.
📖 حوالہ / مصدر: ابن عمرؓ کی اس خبر کو ابن ابی شیبہ، ابن خزیمہ (3066)، ابن ابی حاتم اور ابن عبدالبر نے ابن جریج کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن عدي في "الكامل" 3/ 45 من طريق خالد بن يوسف السمتي، عن عبد الله بن رجاء، عن ابن جريج، عن نافع، عن ابن عمر، ومن طريق خالد بن يوسف السمتي أيضًا، عن سفيان بن عيينة، عن ابن جريج، عن نافع، عن ابن عمر قال: ما من أحدٍ إلّا وعليه حجة وعمرة واجبتان. قال ابن عدي: هذا الحديث بهذا الإسناد باطل. قلنا: آفته خالد بن يوسف السمتي، فإنه متروك.
⚖️ درجۂ حدیث: خالد بن یوسف السمیتی کے طریق سے یہ روایت "باطل" ہے کیونکہ وہ "متروک" راوی ہے۔
وأخرج سعيد بن أبي عروبة في "المناسك" (82)، والطحاوي في "أحكام القرآن" (1595)، والبيهقي 4/ 351 من طريق أيوب، عن نافع، عن ابن عمر قال: الحج والعمرة فريضتان. وتحرَّف في مطبوع "المناسك" أيوب إلى: حدثوا، وقد جاء على الصواب في "تغليق التعليق" 3/ 117، و"فتح الباري" 6/ 6.
📖 حوالہ / مصدر: سعید بن ابی عروبہ، طحاوی اور بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ نافع عن ابن عمرؓ سے روایت کیا کہ "حج اور عمرہ دو فرائض ہیں"۔
وعلَّق البخاري في باب وجوب العمرة وفضلها من "صحيحه" بين يدي الحديث (1773) فقال: قال ابن عمر ﵄: ليس أحد إلّا وعليه حجة وعمرة.
📌 اہم نکتہ / خلاصہ: امام بخاری نے اپنی صحیح میں اسے معلقاً ذکر کیا ہے کہ ابن عمرؓ فرماتے تھے: "کوئی ایسا شخص نہیں جس پر حج اور عمرہ (دونوں) لازم نہ ہوں"۔