🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
68. أدب دخول الكعبة
کعبہ میں داخل ہونے کے آداب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1782
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران بن خالد، حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا إسماعيل بن عبد الملك، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عائشة قالت: خَرَجَ رسول الله ﷺ من عندي وهو قَريرُ العين، طيِّبُ النفس، ثم رَجَعَ إليَّ وهو حزين، فقلتُ: يا رسولَ الله، خرجتَ من عندي وأنتَ كذا وكذا، قال:"إنِّي دخلتُ الكعبةَ ووَدِدْتُ أنِّي لم أكن فعلتُه، إني أخافُ أن أكونَ قد أتعبتُ أُمتي من بَعدي" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ میرے پاس سے گئے تو بہت مطمئن اور پرسکون گئے تھے پھر جب آپ لوٹ کر میرے پاس آئے تو بہت پریشان تھے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ میرے پاس سے گئے تو بہت ہشاش بشاش تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کعبہ میں داخل ہوا اور میں چاہتا تھا کہ میں یہ عمل نہ کروں تاکہ اس سے میرے بعد میری امت مشقت میں مبتلا نہ ہو جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1782]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1782 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وأخرجه أحمد 41/ (25056)، وابن ماجه (3064)، والترمذي (873) من طريق وكيع، وأبو داود (2029) من طريق عبد الله بن داود، كلاهما عن إسماعيل بن عبد الملك، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (41/25056)، ابن ماجہ (3064)، ترمذی (873) اور ابوداؤد (2029) نے وکیع اور عبداللہ بن داؤد کے واسطے سے اسماعیل بن عبدالملک کی سند سے روایت کیا ہے۔
وروي بنحوه من وجه آخر لا يفرح به عن عائشة، أخرجه أحمد 42/ (25197) من طريق جابر بن يزيد الجعفي عن عرفجة عنها. وجابر الجعفي هذا لا يصلح في المتابعات، والله أعلم.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت عائشہؓ سے ایک اور طریق سے بھی اس طرح کی روایت مروی ہے مگر جابر الجعفی کے ضعف کی وجہ سے وہ قابلِ اعتبار نہیں۔
(2) إسناده ضعيف لضعف إسماعيل بن عبد الملك: وهو ابن أبي الصُّفير الأسدي. ابن أبي مليكة: هو عبد الله بن عبيد الله.
⚖️ درجۂ حدیث: اسماعیل بن عبدالملک (ابن ابی الصفیر) کے ضعف کی وجہ سے یہ سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابن ابی ملیکہ سے مراد عبداللہ بن عبید اللہ ہیں۔