🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
70. حلق الرأس
سر منڈوانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1786
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا ابن بُكَير، حدثني الليث، أنَّ أبا الزُّبير أخبره عن جابر بن عبد الله: أنَّ النبي ﷺ أعمَرَ عائشةَ من التَّنعيم في ذي الحِجّة ليلةَ الحَصْبة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحجہ میں وادی محصب میں ٹھہرنے کی رات (منٰی سے روانگی کے بعد منٰی اور مکہ کے درمیان وادی محصب میں رات گزاری جاتی ہے) اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تنعیم سے عمرہ شروع کروایا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1786]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1786 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. أبو بكر بن إسحاق: اسمه أحمد، وابن بكير: هو يحيى بن عبد الله بن بكير، والليث: هو ابن سعد، وأبو الزبير: هو محمد بن مسلم بن تَدرُس.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابوبکر بن اسحاق کا نام احمد ہے، ابن بکیر سے مراد یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر، لیث سے ابن سعد اور ابوالزبیر سے محمد بن مسلم بن تدرس مراد ہیں۔
وأخرجه أحمد 23/ (15244)، ومسلم (1213) (136)، وأبو داود (1785)، والنسائي ¤ ¤ (3729) من طرق عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد. وأوردوه جميعًا بأطول مما هنا ضمن قصة عائشة وحيضها في الحج. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (23/15244)، مسلم (1213)، ابوداؤد (1785) اور نسائی (3729) نے لیث بن سعد کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور ان سب نے اسے حضرت عائشہؓ کے حج و حیض کے طویل قصے کے ضمن میں بیان کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کا سہو ہے (کیونکہ یہ پہلے سے صحیحین میں ہے)۔
وأخرجه أحمد 22/ (14322)، ومسلم (1213)، والنسائي (4217) من طريقين عن أبي الزبير، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (22/14322)، مسلم اور نسائی نے ابوالزبیر کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (4217) من طريق عطاء بن أبي رباح، عن جابر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (4217) نے عطا بن ابی رباح عن جابرؓ کی سند سے بھی روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق سيأتي برقم (6130).
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں عبدالرحمن بن ابی بکر صدیقؓ کی روایت آگے نمبر (6130) پر آئے گی۔