المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
77. إن لله مائة رحمة قسم منها رحمة بين أهل الدنيا
اللہ کی سو رحمتیں ہیں جن میں سے ایک وہ ہے جو اس نے دنیا والوں کے درمیان تقسیم کی
حدیث نمبر: 186
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا هَوْذة بن خَليفة، حدثنا عَوْف، حدثني محمد بن سيرين وخلاس، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"إِنَّ لله مئة رحمةٍ، قَسَمَ منها رحمةً بين أهل الدنيا فوَسِعَتهم إلى آجالهم، وأخَّرَ تسعة وتسعين لأوليائه، وإنَّ الله ﷿ قابضٌ تلك الرحمة التي قَسَمَها بين أهل الدنيا إلى التسع والتسعين، فكَمَّلَها مئة رحمةٍ لأوليائه يوم القيامة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتَّفقا فيه على حديث الزُّهْري عن حميد بن عبد الرحمن عن أبي هريرة، وسليمان التَّيمي عن أبي عثمان عن سلمان مختصرًا سلمان مختصرًا (2) ، ثم خرَّجه مسلم (3) من حديث عبد الملك بن أبي سليمان عن عطاء بن أبي رباح عن أبي هريرة أكمل من الحديثين. وله شاهد على نَسَقِ حديث عوفٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 185 - على شرطهما وأخرجا منه
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتَّفقا فيه على حديث الزُّهْري عن حميد بن عبد الرحمن عن أبي هريرة، وسليمان التَّيمي عن أبي عثمان عن سلمان مختصرًا سلمان مختصرًا (2) ، ثم خرَّجه مسلم (3) من حديث عبد الملك بن أبي سليمان عن عطاء بن أبي رباح عن أبي هريرة أكمل من الحديثين. وله شاهد على نَسَقِ حديث عوفٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 185 - على شرطهما وأخرجا منه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ کی سو رحمتیں ہیں، ان میں سے اس نے ایک رحمت دنیا والوں کے درمیان تقسیم فرمائی جو ان کی موت تک ان کے لیے کافی ہے، اور ننانوے رحمتیں اپنے اولیاء (محبوب بندوں) کے لیے بچا کر رکھی ہیں، اور اللہ عزوجل اس ایک رحمت کو بھی جو اس نے دنیا والوں میں بانٹی تھی (قیامت کے دن) ان ننانوے کے ساتھ ملا لے گا، اور یوں قیامت کے دن اپنے اولیاء کے لیے سو رحمتیں مکمل فرما دے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف ز «هري عن حميد بن عبدالرحمن» اور «سليمان تيمي عن ابي عثمان» کی مختصر روایات پر اتفاق کیا ہے، جبکہ امام مسلم نے عبدالملک بن ابی سلیمان کے واسطے سے ان دونوں سے زیادہ مکمل روایت نقل کی ہے۔ عوف کی اس حدیث کے ہم پلہ ایک شاہد بھی موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 186]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف ز «هري عن حميد بن عبدالرحمن» اور «سليمان تيمي عن ابي عثمان» کی مختصر روایات پر اتفاق کیا ہے، جبکہ امام مسلم نے عبدالملک بن ابی سلیمان کے واسطے سے ان دونوں سے زیادہ مکمل روایت نقل کی ہے۔ عوف کی اس حدیث کے ہم پلہ ایک شاہد بھی موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 186]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وخلاس» [ترقيم الرساله 186] [ترقيم الشركة 185] [ترقيم العلميه 185]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 186 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وخلاس - وهو ابن عمرو - لم يسمع أبا هريرة فهو من جهته منقطع إلا أنه من جهة محمد بن سيرين متصل. عوف: هو ابن أبي جميلة الأعرابي.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور سند قوی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: خلاس بن عمرو کا ابوہریرہ سے سماع نہیں ہے اس لیے وہاں سے سند منقطع ہے، مگر محمد بن سیرین کی جہت سے یہ متصل ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: عوف سے مراد "عوف بن ابی جمیلہ الاعرابی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 16 / (10670) عن روح بن عبادة ومحمد بن جعفر، عن عوف، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (16/10670) میں روح بن عبادہ اور محمد بن جعفر عن عوف کی سند سے اسی طریق کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (7821) من طريق محمد بن سيرين وحده عن أبي هريرة.
📌 اہم نکتہ: یہ روایت نمبر (7821) پر صرف محمد بن سیرین عن ابی ہریرہ کے طریق سے دوبارہ آئے گی۔
وأخرجه بنحوه أحمد 14 / (8415)، ومسلم (2752) (18)، والترمذي (3541) من طريق عبد الرحمن بن يعقوب مولى الحُرّقة، وأحمد 16 / (10810) من طريق أبي صالح السمان، والبخاري (6469) من طريق سعيد المقبري، ثلاثتهم عن أبي هريرة.
📖 حوالہ / مصدر: اس جیسی روایت امام احمد، امام مسلم (2752)، امام ترمذی (3541) اور امام بخاری (6469) نے عبدالرحمن بن یعقوب، ابوصالح السمان اور سعید مقبری کے تین مختلف طرق سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
(2) وقع للحاكم هنا وهمان: الأول: أنهما لم يخرجاه من حديث الزهري عن حميد بن عبد الرحمن عن أبي هريرة، وإنما أخرجاه من حديث الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة، البخاري برقم (6000) ومسلم برقم (2752) (17)، وهو من هذا الوجه أيضًا عند ابن حبان برقم (6148). الثاني: أنهما لم يتفقا عليه من حديث سليمان التيمي عن أبي عثمان عن سلمان، وإنما انفرد به مسلم برقم (2753) (20)، وسيأتي عند المصنف برقم (7820) من طريق داود بن أبي هند عن أبي عثمان.
🔍 فنی نکتہ / وہم: امام حاکم کو یہاں دو وہم ہوئے ہیں: پہلا یہ کہ بخاری و مسلم نے اسے زہری عن حمید کے طریق سے نہیں بلکہ زہری عن سعید بن المسیب کے طریق سے روایت کیا ہے۔ دوسرا وہم یہ کہ انہوں نے اسے شیخین کی متفق علیہ روایت کہا، جبکہ سلمان والی روایت میں امام مسلم منفرد ہیں۔
(3) برقم (2752) (19)، وأخرجه أيضًا من هذا الطريق أحمد 15 (9609)، وابن ماجه (2493)، وابن حبان (6147).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت صحیح مسلم (2752/19)، مسند احمد (15/9609)، ابن ماجہ (2493) اور ابن حبان (6147) میں اسی طریق سے موجود ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 186 in Urdu