🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. من دعا بدعوة ذي النون استجاب الله له
جس نے ذوالنون (سیدنا یونس علیہ السلام) کی دعا سے دعا کی اللہ اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1883
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب إملاءً، حدثنا محمد بن علي بن مَيْمُون الرَّقِّي، حدثنا محمد بن يوسف الفِرْيابي، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن إبراهيم بن محمد بن سعد، عن أبيه، عن جدِّه سعد بن أبي وقّاص، قال: قال رسولُ الله ﷺ:"دعوةُ ذي النُّون إذْ دعا وهو في بطن الحُوت: لا إلهَ إِلَّا أَنتَ، سبحانَكَ إِنِّي كنتُ من الظالمين، إنه لم يَدْعُ بها مسلمٌ في شيءٍ قطُّ، إلا استجابَ اللهُ له بها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُوي عن الفِرْيابي عن سفيان الثوري عن يونس بن أبي إسحاق كذلك، وهو وهمٌ من الراوي:
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذوالنون (سیدنا یونس علیہ السلام) کی وہ دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں مانگی تھی (وہ یہ ہے): «لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی قصورواروں میں سے ہوں، حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی مسلمان کسی بھی مقصد کے لیے ان کلمات کے ذریعے دعا نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرما لیتا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسے فریابی نے سفیان ثوری سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن اسے سفیان سے جوڑنا راوی کا وہم ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1883]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يونس بن أبي إسحاق.» [ترقيم الرساله 1883] [ترقيم الشركة 1868]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1883 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يونس بن أبي إسحاق.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور یہ سند یونس بن ابی اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه الترمذي (3505)، والنسائي (10417) من طريقين عن محمد بن يوسف الفريابي، بهذا الإسناد. وذكر الترمذي أنَّ بعضهم رواه عن يونس عن إبراهيم بن محمد بن سعد عن سعد، لم يذكر عن أبيه، ثم قال الترمذي: وكان يونس بن أبي إسحاق ربما ذكر في هذا الحديث عن أبيه، وربما لم يذكره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3505) اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ ترمذی کے بقول یونس کبھی اس میں اپنے والد کا ذکر کرتے تھے اور کبھی نہیں۔
وأخرجه مطولًا ضمن قصةٍ أحمد 3/ (1462) عن إسماعيل بن عمر الواسطي، عن يونس بن أبي إسحاق، به. ¤ ¤ وسيكرره المصنف بإسناده ومتنه برقم (3485).
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد 3/ (1462) نے اسے ایک طویل قصے کے ساتھ روایت کیا ہے۔ مصنف اسے دوبارہ (3485) پر ذکر کریں گے۔
وانظر الأحاديث الثلاثة التالية بعده، وما سيأتي أيضًا برقم (4166)، ومن وجه آخر حسن عن سعد برقم (4172).
🔍 ہدایت: اس کے بعد والی تین احادیث اور رقم (4166) و (4172) ملاحظہ فرمائیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1883 in Urdu