المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
43. دعاء يذهب الهم والحزن
وہ دعا جو غم اور رنج کو دور کر دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 1898
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن شاذان الجَوهري، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا فُضَيل بن مرزوق، حدّثني أبو سَلَمةَ الجُهَني، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن أبيه قال: قال عبد الله بن مسعود: قال رسول الله ﷺ:"ما أصابَ مسلمًا قَطُّ همٌّ ولا حَزَنٌ فقال: اللهمَّ إِنِّي عبدُك، وابنُ أَمَتَكَ، ناصِيتي في يَدِكَ، ماضٍ فيَّ حُكمُك، عدلٌ فيَّ قضاؤُك، أسألكَ بكلِّ اسمٍ هو لك، سمَّيتَ به نفسَك، أو أنزلتَه في كتابك، أو علَّمتَه أحدًا من خَلْقِكَ، أو استأثرتَ به في عِلْمِ الغَيبِ عندك، أن تجعلَ القرآنَ رَبيعَ قلبي، وجلاءَ حُزْني، وذهابَ همِّي، إلَّا أذهَبَ الله همَّه، وأبدَلَه مكانَ حَزَنِه فَرَحًا"، قالوا يا رسولَ الله، ألا نتعلمُ هذه الكلمات؟ قال:"بلى، ينبغي لمن سَمِعَهُنَّ أن يتعلَّمَهنَّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم إن سَلِمَ من إرسال عبد الرحمن بن عبد الله عن أبيه، فإنه مختَلَف في سماعه عن أبيه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم إن سَلِمَ من إرسال عبد الرحمن بن عبد الله عن أبيه، فإنه مختَلَف في سماعه عن أبيه (1) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان کو کوئی تکلیف اور پریشانی آئے تو وہ یہ دعا پڑھے: ” اَللّٰھمَّ انی عبدک وابن امتک، ناصیتی فی یدک ماض فی حکمک، عدل فی قضاؤک، اسألک بکل اسم ھو لک سمّیت بہ نفسک، او انزلتہ فی کتابک، او علمتہ احدًا من خلقک، او استأثرت بہ فی علم الغیب عندک، ان تجعل القراٰن ربیع قلبی، وجلاء حزنی، وذھاب ھمِّی۔ “ ” اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں اور تیری بندی کا بچہ ہوں، میری باگ ڈور تیرے ہاتھ میں ہے، میرے بارے میں تیرا حکم گزر چکا ہے اور میرے بارے میں تیرا فیصلہ عدل پر مبنی ہے۔ میں تجھ سے ہر اس نام کے ساتھ سوال کرتا ہوں جو تیرا ہے (خواہ) تو نے وہ خود نام بتایا ہے۔ یا اپنی کسی کتاب میں نازل کیا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو وہ سکھایا ہے یا اپنے پاس اپنے علم غیب میں ہی اس کو رکھا ہوا ہے۔ یہ کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار بنا دے، میرے غم کا آسرا بنا دے اور میرے غم غلط ہونے کا ذریعہ بنا دے “ اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی اور تکلیف کو ختم فرما دیتا ہے اور اس کی پریشانی کو خوشی اور فرحت میں تبدیل فرما دیتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم یہ کلمات سیکھ لیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ جو ان کلمات کو سنے اس کو چاہیے کہ انہیں یاد کرلے۔ ٭اگر اس حدیث کی سند عبدالرحمن بن عبداللہ کی ان کے والد سے ارسال سے محفوظ ہے تو یہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ” حدیث صحیح “ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عبدالرحمن کے ان کے والد سے سماع میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1898]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1898 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لجهالة أبي سلمة الجهني، كما هو مبيَّن في التعليق على "مسند أحمد" 6/ (3712)، فليس هو موسى بن عبد الله - أو ابن عبد الرحمن - الجهني الثقة الذي هو من رجال ¤ ¤ "التهذيب"، لذلك تعقب المصنِّفَ الحافظُ الذهبي في "تلخيصه" فقال: أبو سلمة لا يُدرى من هو، ولا رواية له في الكتب الستة، انتهى. القاسم بن عبد الرحمن: هو ابن عبد الله بن مسعود.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند ابوسلمہ الجہنی کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام ذہبی نے حاکم پر تعاقب کرتے ہوئے کہا کہ ابوسلمہ مجہول ہے اور کتبِ ستہ میں اس کی کوئی روایت نہیں ہے۔
وأخرجه أحمد (3712) و (4318)، وابن حبان (972) من طريق يزيد بن هارون، عن فضيل بن مرزوق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابن حبان (972) نے یزید بن ہارون عن فضیل بن مرزوق کی سند سے روایت کیا ہے۔
(1) قد رجحنا فيما سلف برقم (278) أنه سمع منه شيئًا قليلًا، والله أعلم.
🔍 فنی نکتہ: ہم نے پہلے رقم (278) پر یہ راجح قرار دیا ہے کہ عبدالرحمن کا اپنے والد سے معمولی سماع ثابت ہے۔