🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
61. من قال : رضيت بالله ربا . . . إلخ
جس نے کہا: میں اللہ کو رب ماننے پر راضی ہوں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1926
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد الدَّقّاق، حدثنا علي بن إبراهيم الواسِطي، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا شعبة. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن حَمْدان الزاهد، قالا: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، قال: سمعتُ أبا عَقيل هاشم بن بلال يُحدِّث عن أبي سَلَّام سابِق بن ناجيةَ، قال: كنا جُلوسًا في مسجد حِمصَ، فمرَّ رجلٌ فقالوا: هذا خَدَمَ النبيَّ ﷺ، فنهضتُ إليه فسألتُه، قلت: حدِّثني حديثًا سمعتَه من رسولِ الله ﷺ، ولم يَتداولْه الرجالُ بينكما، قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقولُ:"ما من عبدٍ يقولُ حين يُمسي ويُصبحُ: رضيتُ بالله ربًّا، وبالإسلام دِينًا، وبمحمد نبيًّا، إلَّا كان حقًّا على الله أن يُرضِيَه يومَ القيامةِ" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوسلام سابق بن ناجیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم حمص کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص وہاں سے گزرا، لوگوں نے بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم ہے۔ میں جلدی سے اُٹھ کر اس کی طرف گیا اور اس سے کہا: آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سُن رکھی ہو لیکن زیادہ لوگ اس سے واقف نہ ہوں، انہوں نے جواباً کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے، کوئی بھی بندہ صبح اور شام کے وقت یہ کہے میں اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوں تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اس بندہ کو راضی کرے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1926]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1926 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح بما قبله، لكن بلفظ: "وجبت له الجنة" بدل: "إلّا كان حقًّا على الله أن يرضيه" كما في حديث أبي سعيد الخدري السابق. وهذا إسناد ضعيف لجهالة سابق بن ناجية، وما وقع في إسناد الحاكم هنا من قوله: عن أبي سلّام سابق بن ناجية، فوهمٌ، صوابه: عن سابق بن ناجية، عن أبي سلّام، عن هذا الرجل الذي خَدَمَ النبي ﷺ، كما جاء في رواية "مسند أحمد" ¤ ¤ 38/ (23111). وإذا صحَّ ذلك فأبو سلّام هذا قُيِّد في رواية عفّان عن شعبة عند أحمد بأبي سلّام البراء، يعني أنه غير ممطور الحبشي، وهذا ما اعتمده الذهبي في "المُقتنى في سرد الكنى" حيث أورد الترجمتين بالرقمين (2748) و (2751)، لكن قيّده أبو النضر هاشم بن القاسم في روايته عن شعبة عند أحمد بالحبشي، وبه جزم ابن معين في رواية ابن محرز عنه، وكذلك المنذري في "الترغيب والترهيب"، والعلائيُّ في "جامع التحصيل" (971)، وابنُ حجر في "تهذيب التهذيب" و"الإصابة" 7/ 185، و"نتائج الأفكار" 2/ 373، يعني أنَّ أبا سلّام هذا هو مَمطُور الحبشي التابعي المعروف، وعلى أي حالٍ يبقى فيه جهالة سابق بن ناجية.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یہ اپنے سے ماقبل روایت کی وجہ سے "صحیح" ہے، مگر سند میں سابق بن ناجیہ کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعف ہے۔ حاکم کا اسے "سابق بن ناجیہ عن ابی سلام" کے بجائے "ابی سلام سابق بن ناجیہ" کہنا وہم ہے۔
وقد روى هذا الحديثَ مِسعَرُ بن كدام عن أبي عقيل فاضطرب في إسناده ولم يضبطه كما سيأتي بيانه. وضبطه شعبة وهُشيم في روايتهما عن أبي عقيل، حيث قالا: عن سابق، عن أبي سلام، عن خادم النبي ﷺ. وتساهلَ الحافظُ ﵀ إذ قوَّى إسناد هذا الخبر في "فتح الباري" 19/ 243.
🔍 علّت / فنی نکتہ: مسعر بن کدام نے اس سند میں اضطراب کیا ہے، جبکہ شعبہ اور ہشیم نے اسے درست طور پر سابق عن ابی سلام کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ حافظ ابن حجر نے اس کی سند کو تقویت دی ہے۔
وأخرجه أحمد 31/ (18967) عن أسود بن عامر، و (18969) عن أبي النضر هاشم بن القاسم، و 38/ (23112) عن عفان بن مسلم، وأبو داود (5072) عن حفص بن عمر، والنسائي (9747) من طريق خالد بن الحارث، خمستهم عن شعبة، عن أبي عَقيل، عن سابق بن ناجية، عن أبي سلام، عن الرجل الذي خدم النبي ﷺ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد اور نسائی نے شعبہ کی سند سے خادمِ رسول ﷺ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (10324) من طريق هُشيم، عن أبي عَقيل هاشم بن بلال، عن سابق بن ناجية، عن أبي سلّام، عن رجل طُوالٍ أشعثَ خدم النبي ﷺ.
📖 حوالہ / مصدر: امام نسائی نے ہشیم کے طریق سے اس صحابی کا حلیہ "لمبا قد اور بکھرے بال" بھی نقل کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 31/ (18968) عن وكيع عن مِسعَر بن كدام، عن أبي عَقيل، عن أبي سلّام، عن سابق خادم النبي ﷺ. وهكذا قلب الإسناد وأسقط منه رجلًا، وجعل سابقًا هو الصحابي الذي خدم النبي ﷺ.
⚠️ سندی اختلاف: وکیع کی روایت میں سند الٹ گئی ہے اور سابق کو ہی صحابی بنا دیا گیا ہے، جو کہ غلطی ہے۔
وأخرجه ابنُ ماجه (3870) من طريق محمد بن بشر العَبْدي، عن مِسعَر، عن أبي عَقيل، عن سابق، عن أبي سلام خادم النبي ﷺ. فجعل أبا سلّام هو الصحابي الذي خدم النبي ﷺ، وقد اغتر بهذه الرواية خليفةُ بن خيّاط، فذكر أبا سلام في الصحابة، وكذلك جزم بصحبته ابنُ عبد البر، ولا يصحُّ ذلك كما يظهر جليًّا من رواية شعبة وهُشيم اللذين ضبطا الرواية عن أبي عقيل.
🔍 علّت / فنی نکتہ: ابن ماجہ کی روایت میں ابوسلام کو صحابی بنا دیا گیا، جس سے خلیفہ بن خیاط اور ابن عبدالبر جیسے ائمہ کو وہم ہوا، حالانکہ شعبہ کی روایت زیادہ محفوظ ہے۔
وفي الباب عن ثوبان مولى رسول الله ﷺ عند الترمذي (3389)، وقال: حديث حسن غريب، وذكر المنذري في "الترغيب والترهيب" أنه جاء في بعض نسخ الترمذي: حسن صحيح. قلنا: كذلك جاء في نسخة عندنا برواية أبي حامد التاجر وأبي ذر الترمذي عن أبي عيسى الترمذي، وفي هذا ردٌّ على الحافظ ابن حجر ﵀ في "نتائج الأفكار" 2/ 371 حيث ردَّ على النووي في ¤ ¤ نقله حكم الترمذي بأنه حسن صحيح غريب، فقال: لم أر لفظة صحيح لا بخط الكروخي، ولا بخط الحافظ أبي علي الصَّدَفي من طريق أبي علي السِّنجي، ولا في غيرهما من النسخ، ولا في الأطراف، فكأنَّ الشيخ رآه في نسخة ليست معتمدة.
🧩 متابعات و شواہد: ثوبان مولیٰ رسول اللہ ﷺ کی روایت ترمذی میں موجود ہے جسے انہوں نے "حسن غریب" یا "حسن صحیح" کہا ہے۔ ابن حجر نے "صحیح" کے لفظ پر اعتراض کیا تھا، مگر بعض نسخوں میں یہ موجود ہے۔
قلنا: مردُّ جميع النسخ التي عند الحافظ إلى رواية أبي العباس المحبُوبي عن أبي عيسى الترمذي، فلذلك لم يجده فيها.
📝 توضیح: حافظ ابن حجر کو یہ لفظ اس لیے نہیں ملا کیونکہ ان کے پاس موجود نسخے "المحبوبی" کی روایت سے تھے، جبکہ دیگر نسخوں میں یہ موجود ہے۔
وتحسين الترمذي لهذا الخبر أو تصحيحه له فيه نظرٌ، لأنَّ في إسناده أبا سَعْد سعيد بن المرزُبان البقّال، يرويه عن أبي سلمة عن ثوبان، وأبو سعد البقال ضعيف، وكان يدلس وقد عنعنه، ولعله يكون وهم في هذا الإسناد بأن يكون أخطأ في تسمية الصحابي والتابعي، ويكون الحديث لأبي سلّام عن خادم النبي ﷺ، فتحرف عليه اسم أبي سلّام إلى أبي سلمة ويكون قوله: عن ثوبان، من صنيعه هو، لكون ثوبان كان مولًى لرسول الله ﷺ، وكان يخدمه، وكان نزل حمص، فقيَّد اسمَه من عنده بناء على هذه المعطيات المشتركة، والله تعالى أعلم.
🔍 فنی نکتہ: ترمذی کی اس روایت کی تحسین محلِ نظر ہے کیونکہ اس میں ابوسعد البقال ضعیف اور مدلس راوی ہے، اور امکان ہے کہ اس نے راویوں کے ناموں میں وہم کیا ہو۔