🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
73. مَا مِنْ قَلْبٍ إِلَّا بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ
ہر دل رحمٰن کی دو انگلیوں کے درمیان ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1947
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا بشر بن بكر، أخبرني عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، قال: سمعت بُسْر بن عُبيد الله يقول: سمعت أبا إدريسَ الخَوْلاني يقول: سمعت النَّوّاس بن سمعان الكِلابي، يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ما من قلبٍ إلَّا بين إصبَعين من أصابعِ الرحمن، إن شاء أقامَه، وإن شاء أَزاغَه". وكان رسولُ الله ﷺ يقول:"اللهم يا مُقلِّبَ القُلوب، ثَبِّت قلبي على دِينِك، والميزانُ بيدِ الرحمن، يرفعُ أقوامًا ويَخفِض آخرينَ إلى يومِ القيامة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ بإسناد صحيح عن أنس بن مالك:
سیدنا نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کوئی بھی دل ایسا نہیں ہے جو رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان نہ ہو، اگر وہ چاہے تو اسے سیدھا رکھے اور اگر چاہے تو اسے ٹیڑھا (گمراہ) کر دے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ، اور میزان رحمن کے ہاتھ میں ہے، وہ قیامت کے دن تک کچھ لوگوں کو بلند کرتا ہے اور کچھ کو پست کر دیتا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1947]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو إدريس الخَولاني: هو عائذ الله بن عبد الله.» [ترقيم الرساله 1947] [ترقيم الشركة 1932]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1947 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو إدريس الخَولاني: هو عائذ الله بن عبد الله.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابوادریس الخولانی ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (199) من طريق صدقة بن خالد الدمشقي، والنسائي (7691)، وابن حبان (943) من طريق عبد الله بن المبارك، كلاهما عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ، نسائی اور ابن حبان نے عبدالرحمن بن یزید بن جابر کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (8105) عن أبي العباس محمد بن يعقوب، عن محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن بشر بن بكر. فذكر محمد بن عبد الله بن عبد الحكم بدل بحر بن نصر، وكلاهما شيخ لأبي العباس، فليس ببعيد أن يسمع الحديث من كليهما عن بشر بن بكر، فكلاهما روى عنه.
🔍 فنی نکتہ: یہ روایت آگے رقم (8105) پر بھی آئے گی۔ بشر بن بکر سے اسے دو مختلف شیوخ نے روایت کیا ہے، جو اس کی صحت کی تائید ہے۔
وسيأتي أيضًا برقم (3178) من طريق محمد بن شعيب بن شابور عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر.
🔍 ہدایت: یہ روایت آگے رقم (3178) پر بھی دوبارہ آئے گی۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1947 in Urdu