🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
92. التعوذ من شر السمع والبصر
کان اور آنکھ کے شر سے پناہ کی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1974
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا الخَضِر بن أبان الهاشمي، حدثنا أبو أحمد محمد بن عبد الله الزُّبيري، حدثنا سعد بن أوس، عن بلال بن يحيى العَبْسي، عن شُتَير بن شَكَل، عن أبيه شَكَل بن حُميد، قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ، فقلت: يا رسول الله، علِّمني تَعوُّذًا أتعوّذُ به، فأخذَ بكفّي، فقال:"قُل: اللهمَّ إني أعوذُ بك من شرِّ سَمْعي، ومن شرِّ بَصَري، ومن شرِّ نَفْسي، ومن شرِّ مَنِيّي"، حتى حَفِظتُها (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا شکل بن حمید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی: مجھے تعوذ سکھائیے تاکہ اس کے ساتھ میں پناہ مانگا کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: یوں کہو: اللّٰھمّ انّی اعوذبک من شرِّ سمعی، ومن شر بصری، ومن شر نفسی، ومن شر منیِّی۔ اے اللہ! میں اپنی سماعت، اپنی بصارت اپنے نفس اور اپنی موت کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مسلسل دہراتے رہے) حتی کہ ان کو یہ دعا یاد ہو گئی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1974]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1974 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف الخَضِر بن أبان الهاشمي، لكنه متابع.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اگرچہ خضر بن ابان کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، مگر اسے دیگر متابعات حاصل ہیں۔
وأخرجه أحمد 24/ (15542)، وعنه أبو داود (1551)، وأخرجه الترمذي (3492) عن أحمد بن منيع، كلاهما (أحمد بن حنبل وأحمد بن منيع) عن أبي أحمد محمد بن عبد الله الزبيري، بهذا الإسناد وقال الترمذي: حديث حسن غريب. وزادا في روايتهما: "ومن شر لساني ومن شرّ قلبي"، ولم يقولا: "ومن شر نفسي".
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: امام احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے اسے روایت کیا ہے، ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا ہے۔ ان روایات میں "نفس کے شر" کی جگہ "زبان اور دل کے شر" کا ذکر ہے۔
وأخرجه أحمد (15541)، وأبو داود (1551)، والنسائي (7826) من طريق وكيع بن الجرّاح، والنسائي (7827) من طريق أبي نُعيم الفضل بن دُكين، كلاهما عن سعد بن أوس، به. ولفظهما كلفظ ابن حنبل وابن منيع عن الزُّبيري.
📖 حوالہ / مصدر: امام نسائی نے اسے وکیع اور ابونعیم کے طریق سے روایت کیا ہے، جس کے الفاظ امام احمد کی روایت کے مشابہ ہیں۔
وقوله: "ومن شر مَنِيّي" أي: من شرّ غَلَبة منيِّي حتى لا أقع في الزني، والنظر إلى المحارم.
📚 لغوی تشریح: "شرّ منِيّي" (منی کے شر) سے مراد جنسی شہوت کا غلبہ ہے تاکہ انسان زنا اور نامحرموں کو دیکھنے جیسے گناہوں سے بچ سکے۔