🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. السبع المثاني فاتحة الكتاب مع التسمية
سات بار دہرائی جانے والی آیات یعنی سورۂ فاتحہ بسم اللہ کے ساتھ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2044
فأخبرَناه الحسنُ بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله. وحدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا أحمد بن محمد بن حُرَيث، حدثنا سعيد بن يعقوب الطّالْقاني، حدثنا عبد الله بن المبارَك، عن ابن جُرَيج، عن أبيه، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، في السَّبع المَثَاني، قال: هنَّ فاتحةُ الكتاب. قرأَها ابنُ عباس ببِسْم الله الرحمن الرحيم سبعًا، قال ابن جُرَيج: فقلت لأبي: أخبرك سعيد بن جُبير عن ابن عباس أنه قال:"بسم الله الرحمن الرحيم" آيةٌ من كتاب الله؟ قال: نعم، ثم قال: قرأها ابن عباس ببسم الله الرحمن الرحيم في الركعتين جميعًا (2) . وأما حديث محمد بن بَكْر:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سبع مثانی کی تفسیر کے متعلق مروی ہے کہ اس سے مراد سورۃ فاتحہ ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سورۃ فاتحہ کو پڑھا جس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ساتویں آیت تھی، ابن جریج فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد سے کہا: کیا آپ کو سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بتایا ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم قرآن کی آیت ہے، انہوں نے جواباً کہا: ہاں۔ پھر فرمایا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز کی دونوں رکعتوں میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سمیت فاتحہ پڑھا کرتے تھے۔ محمد بن بکر بن برسانی کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2044]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2044 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف كسابقه، وأحمد بن محمد بن حريث هو السجستاني، وهو واهٍ. ¤ ¤ وأخرجه البيهقي 2/ 47 عن أبي عبد الله الحاكم، بالإسنادين جميعًا.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: پچھلی سند کی طرح اس کی سند بھی ضعیف ہے، اور احمد بن محمد بن حریث السجستانی "واہی" (نہایت کمزور راوی) ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: بیہقی نے 2/ 47 میں امام حاکم کے واسطے سے ان دونوں اسناد کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن الضُّريس في "فضائل القرآن" (159) عن سهل بن عثمان، عن ابن المبارك، به. لكن دون ذكر البسملة. وانظر ما قبله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن الضریس نے "فضائل القرآن" (159) میں ابن مبارک کے طریق سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں "بسم اللہ" کا ذکر نہیں ہے۔