المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
93. ليس منا من لم يرحم صغيرنا ويعرف حق كبيرنا
وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کا حق نہ پہچانے۔
حدیث نمبر: 210
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن ابن أبي نَجِيح، عن عبد الله بن عامر، عن عبد الله بن عمرو، يبلُغ به النبيَّ ﷺ قال:"ليس منَّا من لم يَرحَمُ صغيرنا، ويعرف حقَّ كبيرِنا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بعبد الله بن عامر اليَحصَبي، ولم يُخرجاه. وشاهده الحديث المعروف من حديث محمد بن إسحاق وغيره عن عَمْرو بن شعيب عن أبيه عن جده. وفي حديث عِكرمة عن ابن عباس:"ويأمر بالمعروف وينهى عن المنكر"، وإنما تركته لأنَّ راويَه ليث بن أبي سُلَيم (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 209 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بعبد الله بن عامر اليَحصَبي، ولم يُخرجاه. وشاهده الحديث المعروف من حديث محمد بن إسحاق وغيره عن عَمْرو بن شعيب عن أبيه عن جده. وفي حديث عِكرمة عن ابن عباس:"ويأمر بالمعروف وينهى عن المنكر"، وإنما تركته لأنَّ راويَه ليث بن أبي سُلَيم (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 209 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کے حق (اور ان کے مرتبے) کو نہ پہچانے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے عبداللہ بن عامر یحصبی سے استدلال کیا ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا شاہد وہ مشہور حدیث ہے جو محمد بن اسحاق اور دیگر نے عمرو بن شعیب سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے، اور عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ”اور وہ نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے“ لیکن میں نے اس کا ذکر یہاں اس لیے چھوڑ دیا کیونکہ اس کا راوی لیث بن ابی سلیم (ضعیف) ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 210]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے عبداللہ بن عامر یحصبی سے استدلال کیا ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا شاہد وہ مشہور حدیث ہے جو محمد بن اسحاق اور دیگر نے عمرو بن شعیب سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے، اور عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ”اور وہ نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے“ لیکن میں نے اس کا ذکر یہاں اس لیے چھوڑ دیا کیونکہ اس کا راوی لیث بن ابی سلیم (ضعیف) ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 210]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، سفيان: هو ابن عيينة، وابن أبي نجيح: هو عبد الله، وعبد الله بن عامر ليس هو اليحصبي كما ظنَّه المصنف وصحَّحه على شرط مسلم بناءً عليه، وإنما هو عُبيد الله - مصغرًا - بن عامر المكي، غَلِطَ الحاكم باسمه ونسبه، وقد نبَّه على غلطه تلميذُه البيهقي في "شعب ...» [ترقيم الرساله 210] [ترقيم الشركة 209] [ترقيم العلميه 209]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 210 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. سفيان: هو ابن عيينة، وابن أبي نجيح: هو عبد الله، وعبد الله بن عامر ليس هو اليحصبي كما ظنَّه المصنف وصحَّحه على شرط مسلم بناءً عليه، وإنما هو عُبيد الله - مصغرًا - بن عامر المكي، غَلِطَ الحاكم باسمه ونسبه، وقد نبَّه على غلطه تلميذُه البيهقي في "شعب الإيمان" بإثر الحديث (10472)، وعبيد الله هذا -وإن لم يرو عنه غير ابن أبي نجيح- وثَّقه يحيى بن معين في رواية عثمان الدارمي عنه، وليس هو من رجال الشيخين وهو متابع.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / وہم: امام حاکم کو یہاں وہم ہوا ہے، انہوں نے راوی کا نام "عبداللہ بن عامر یحصبی" سمجھ کر اسے شرطِ مسلم پر صحیح کہا، جبکہ درست نام "عُبید اللہ بن عامر المکی" ہے (جو شیخین کے راوی نہیں ہیں)۔ 📌 اہم نکتہ: امام بیہقی نے بھی اس غلطی پر تنبیہ کی ہے، البتہ یحییٰ بن معین نے عُبید اللہ کی توثیق کی ہے۔
وأخرجه أحمد 11/ (7073)، وأبو داود (4943) من طرق عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (11/7073) اور ابوداؤد (4943) نے سفیان بن عیینہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (6733) و (6935)، والترمذي (1920) من طريق عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده عبد الله بن عمرو.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ترمذی نے "عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ" کی مشہور سند سے روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن عبادة بن الصامت، سيأتي عند المصنف برقم (426).
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت آگے نمبر (426) پر آئے گی۔
وآخر عن أبي هريرة، سيأتي أيضًا عنده برقم (7540). وانظر تتمة أحاديث الباب في "مسند أحمد" عند الحديث (6733).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت نمبر (7540) پر آئے گی۔ اس موضوع کی دیگر احادیث مسند احمد (6733) کے ذیل میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
(2) ليث ضعيف لسوء حفظه واضطراب حديثه.
⚖️ درجۂ حدیث: راوی لیث بن ابی سلیم اپنے حافظے کی کمزوری اور حدیث میں اضطراب کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وحديث ابن عباس هذا أخرجه أحمد 4/ (2329)، والترمذي (1921)، وابن حبان (458).
📖 حوالہ / مصدر: حضرت ابن عباس کی یہ روایت مسند احمد، ترمذی اور ابن حبان میں موجود ہے۔
وسقط ليث من سند ابن حبان وهو خطأ.
🔍 فنی نکتہ / تصحیح: ابن حبان کی سند سے لیث کا نام گر گیا ہے جو کہ ایک غلطی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 210 in Urdu