🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. " إذا زلزلت " تعدل نصف القرآن ، و " قل يا أيها الكافرون " تعدل ربع القرآن ، وسورة الإخلاص تعدل ثلث القرآن
سورۂ زلزال آدھے قرآن کے برابر، سورۂ کافرون چوتھائی قرآن کے برابر اور سورۂ اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2103
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا يَمَان بن المغيرة العَنَزي البصري، حدثنا عطاء بن أبي رباح، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:" ﴿إِذَا زُلْزِلَتِ﴾ تَعدِلُ نصفَ القرآن، و ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ تَعدِلُ ربعَ القرآن و ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ تَعدِلُ ثلثَ القرآن" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سورۃ الزلزال (کا ثواب) آدھے قرآن کے برابر ہے اور سورۃ الکافرون (کا ثواب) چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔ اور سورۃ الاخلاص (کا ثواب) ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ چوتھائی قرآن کے برابر ہے صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2103]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2103 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف يمان بن المغيرة، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه".
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یمان بن المغیرہ کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، جیسا کہ امام ذہبی نے کہا ہے۔
وأخرجه الترمذي (2894) عن علي بن حُجر، عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد. وقال: حديث غريب لا نعرفه إلّا من حديث يمان بن المغيرة.
📖 حوالہ / مصدر: امام ترمذی نے اسے "غریب" قرار دیا ہے کیونکہ یہ صرف یمان کے طریق سے معلوم ہے۔
وللحديث بتمامه شاهد من حديث أبي هريرة عند أبي أمية الطرسوسي في "مسنده" (16)، وابن السني في "عمل اليوم والليلة" (686)، لكن في إسناده عُبيس بن ميمون، وهو شديد الضعف كما قال الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" 3/ 268.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ابوہریرہ کی ایک شاہد روایت ابن السنی کے ہاں ہے، مگر اس کی سند "شدید ضعیف" ہے۔
وآخر من حديث أنس بن مالك عند الترمذي (2893)، لكن في إسناده الحسن بن سَلْم العجلي، وهو مجهول، وقال الذهبي في ترجمته في "الميزان" وأورد حديثه هذا: هذا منكر، والحسن لا يُعرف.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت انس کی روایت ترمذی میں ہے مگر اس کا راوی حسن بن سلم "مجہول" ہے اور امام ذہبی نے اسے "منکر" کہا ہے۔
ولسورة الزلزلة منه شاهد من مرسل الحسن البصري عند أبي عبيد في "فضائل القرآن" ص 263، ورجاله ثقات، إلّا أنَّ مراسيل الحسن ليست عندهم بذاك. ¤ ¤ وآخر من قول بكر بن عبد الله المزني - وهو تابعيّ - عند عبد الرزاق (6008)، وأبي عبيد ص 263، وابن الضُّريس (240)، ورجاله ثقات أيضًا.
🧩 متابعات و شواہد: سورہ زلزلہ کی فضیلت پر حسن بصری کی مرسل روایت ہے، مگر حسن کی مرسل روایات اہل علم کے ہاں قوی نہیں ہوتیں۔
وروي عن أنس بن مالك عند الترمذي (2895): أنَّ الزلزلة تعدل ربع القرآن، وحسَّنه! مع أنَّ في إسناده سلمة بن وردان، وهو ضعيف منكر الحديث.
⚖️ حکم: انس کی ایک روایت (زلزلہ چوتھائی قرآن کے برابر) کو ترمذی نے حسن کہا ہے، مگر اس میں سلمہ بن وردان "ضعیف و منکر الحدیث" ہے۔
وقال الحافظ ابن حجر في "الفتح" 15/ 125: هو حديث ضعيف وإن حسَّنه الترمذي، فلعله تساهل فيه لكونه من فضائل الأعمال.
📌 اہم نکتہ: حافظ ابن حجر کے مطابق یہ حدیث ضعیف ہے، ترمذی نے فضائلِ اعمال کی وجہ سے اسے حسن کہنے میں تساہل سے کام لیا ہے۔
وقد صحَّ في فضل ﴿إِذَا زُلْزِلَتِ﴾ حديث عبد الله بن عمرو بن العاص الآتي برقم (4008): أنَّ رجلًا قال للنبي ﷺ: أقرئني سورةً جامعةً، فأقرأه رسول الله ﷺ ﴿إِذَا زُلْزِلَتِ﴾ حتى فرغ منها.
⚖️ حکم: سورہ زلزلہ کے بارے میں عبداللہ بن عمرو کی حدیث (4008) صحیح ہے جس میں آپ ﷺ نے ایک شخص کو یہ پوری سورت پڑھائی تھی۔
ولسورة الكافرون منه شاهد من حديث ابن عمر الآتي بعده، وإسناده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: سورہ کافرون کے شاہد میں ابن عمر کی روایت ضعیف ہے۔
وآخر من حديث أنس عند الترمذي (2895) وإسناده ضعيف كما سبق.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت انس کی روایت بھی پہلے بیان کردہ ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وثالث من حديث سعد بن أبي وقاص عند الطبراني في "الصغير" (165)، وفي إسناده زكريا بن عطية، قال عنه أبو حاتم: منكر الحديث.
🧩 متابعات و شواہد: سعد بن ابی وقاص کی روایت میں زکریا بن عطیہ "منکر الحدیث" ہے۔
ورابع من قول بكر بن عبد الله المزني عند عبد الرزاق (6008)، وأبي عبيد في "فضائل القرآن" ص 266، ورجاله ثقات.
🧩 متابعات و شواہد: تابعی بکر بن عبداللہ المزنی کا قول ثقہ راویوں کے ساتھ مروی ہے۔
وقد جاء في فضل سورة الكافرون في حديث نوفل الأشجعي الذي تقدَّم قبله: أنها براءة من الشِّرك، وهو حديث حسن.
⚖️ حکم: نوفل الاشجعی کی حدیث جس میں اسے "شرک سے برات" کہا گیا ہے، وہ "حسن" ہے۔
وأما سورة الإخلاص فصحَّ أنها تعدل ثلث القرآن عن عدة من الصحابة، ومن ذلك: حديث أبي سعيد الخُدْري عند البخاري (5013). وحديث قتادة بن النعمان عنده (5014). وحديث أبي الدرداء عند مسلم (811). وحديث أبي هريرة عنده (812).
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: سورہ اخلاص کا "تہائی قرآن" کے برابر ہونا صحیح بخاری و مسلم کی متعد روایات (ابو سعید، قتادہ، ابو الدرداء، ابوہریرہ) سے ثابت ہے۔
وانظر تمام شواهده في "مسند أحمد" عند حديث عبد الله بن عمرو بن العاص برقم (6613).
🔍 ہدایت: اس کے تمام شواہد مسند احمد میں عبداللہ بن عمرو کی حدیث (6613) کے تحت ملاحظہ کریں۔