المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. كتاب : البيوع
کتابُ البیوع (خرید و فروخت کے احکام کا باب)۔
حدیث نمبر: 2159
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة المكي. وأخبرنا بكر بن محمد الصَّيرفي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وأبو بكر بن بالَوَيهِ، قالا: أخبرنا بشر بن موسى؛ قالوا: حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا موسى بن عُليّ بن رَبَاح، قال: سمعت أبي يقول: سمعت عمرو بن العاص يقول: بعث إليَّ رسول الله ﷺ، فأتيتُه، فأمرني أن آخذَ عليَّ ثيابي وسلاحي، ثم آتيَه. قال: ففعلتُ، ثم أتيتُه وهو يتوضأ، فصعَّد فِيَّ البصر، ثم طأطأَ، ثم قال:"يا عمرو، إني أُريد أن أبعثَك على جيش، فيُغنِمُك اللهُ ويُسلِّمُك، وأَزعَبُ لك زَعْبةً (1) صالحةً من المال"، قال: فقلتُ: يا رسول الله، إني لم أُسلِم رغبةً في المال، ولكني أسلمتُ رغبةً في الإسلام، وأن أكونَ مع رسول الله، فقال:"يا عمرو، نِعِمَّا بالمال الصالح للرجلِ الصالح" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، إنما خَرَّجا (3) في إباحة طلب المال حديثَ أبي سعيد الخُدْري:"من أخذه بحقِّه فنِعمَ المعونةُ هو" فقط.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2130 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، إنما خَرَّجا (3) في إباحة طلب المال حديثَ أبي سعيد الخُدْري:"من أخذه بحقِّه فنِعمَ المعونةُ هو" فقط.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2130 - على شرط مسلم
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیاری کر کے جنگلی ساز و سامان سے لیس ہو کر میرے پاس آؤ۔ (عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: میں تیاری کر کے آپ کی خدمت میں آ گیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر میری جانب دیکھا پھر آنکھیں جھکا کر بولے: اے عمرو! میں آپ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بنا کر بھیجنا چاہتا ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے مالِ غنیمت (بھی) دے اور تجھے سلامتی (بھی) دے اور میں تیرے لیے پاک صاف مال کی دلچسپی رکھتا ہوں (سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ) بولے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے مال کی خواہش میں تو اسلام قبول نہیں کیا ہے بلکہ میں تو اسلام میں دلچسپی کی وجہ سے مسلمان ہوا ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنگت اختیار کرنے کے لیے مسلمان ہوا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک آدمی کے لیے حلال مال ایک نعمت ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے طلب مال کے جواز میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث نقل کی ہے ” جو شخص اپنا حق لیتا ہے تو یہ بہت ہی اچھی مدد ہے “۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2159]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2159 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تصحف في النسخ الخطية إلى: وأرغب لك رغبة، بالراء المهملة ثم بالغين المعجمة، وإنما هي بالزاي المعجمة ثم بالعين المهملة، من: زَعَب يَزعَبُ، أي: أُعطيك دُفعةً من المال، وأصل الزَّعْب: الدفع والقَسْم. قاله ابن الأثير في "النهاية".
📝 لفظی تصحیح: قلمی نسخوں میں یہاں لفظ کی غلطی ہوئی تھی، درست لفظ "أزعَبُ لك زَعْبَة" ہے، جس کا مطلب ہے "میں تمہیں مال کی ایک بڑی مقدار (دفعہ) دوں گا"۔
(2) إسناده صحيح. أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة: هو عبد الله بن أحمد بن أبي مَسَرَّة، وعبد الصمد بن الفضل: هو ابن موسى البَلْخي، وأبو بكر بن إسحاق: هو أحمد بن إسحاق بن أيوب الصِّبْغي، وأبو بكر بن بالَوَيهِ: هو محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ الجلّاب النَّيسابوري.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ اس میں ابن ابی مسرہ اور ابن بالویہ جیسے ثقہ راوی شامل ہیں۔
وأخرجه أحمد 29/ (17764) عن عبد الله بن يزيد المقرئ، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے عبداللہ بن یزید المقرئ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا (17763) و (17802)، وابن حبان (3210) و (3211) من طرق عن موسى بن عُلَيّ، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابن حبان نے موسیٰ بن علی کے طرق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (2963) من طريق عبد الله بن صالح كاتب الليث عن موسى بن عُلَي.
🔍 ہدایت: یہ روایت آگے نمبر (2963) پر لیث کے کاتب عبداللہ بن صالح کے طریق سے آئے گی۔
(3) البخاري (2842) و (6427)، ومسلم (1052).
📚 تخریج: یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔