🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. إن الله مع الدائن ، حتى يقضي دينه ، ما لم يكن فيما يكرهه الله
اللہ تعالیٰ قرض دار کے ساتھ رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنا قرض ادا کر دے، بشرطیکہ اس میں اللہ کی نافرمانی نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2236
أخبرنا جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو نعيم ضِرَار بن صُرَدٍ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن أبي فُدَيك. وأخبرني يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أبو بكر محمد بن محمد بن رَجَاء، حدثنا يعقوب بن حُميد بن كاسِب، حدثنا ابن أبي فُديك، حدثنا سعيد بن سفيان الأسلمي، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن عبد الله بن جعفر، قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله مع الدائنِ حتَّى يقضيَ دَينَه، ما لم يكن فيما يَكرهُه اللهُ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث أبي أُمامة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2205 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ قرض دار کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنا قرض ادا کر دے، بشرطیکہ وہ قرض کسی ایسے کام کے لیے نہ ہو جسے اللہ ناپسند فرماتا ہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین (بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک شاہد سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2236]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سعيد بن سفيان الأسلمي، وقد روى القاسمُ بن الفضل - وهو ثقة - عن محمد بن علي الباقر والد جعفر بن محمد عن عائشة نحوه، كما تقدم برقم (2234)، وهو أشبه بالصواب، وكأنَّ سعيدًا أخطأ فيه، والله أعلم.» [ترقيم الرساله 2236] [ترقيم الشركة 2218] [ترقيم العلميه 2205]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2236 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سعيد بن سفيان الأسلمي، وقد روى القاسمُ بن الفضل - وهو ثقة - عن محمد بن علي الباقر والد جعفر بن محمد عن عائشة نحوه، كما تقدم برقم (2234)، وهو أشبه بالصواب، وكأنَّ سعيدًا أخطأ فيه، والله أعلم.
⚖️ حکم / درجۂ حدیث: یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر "حسن لغیرہ" ہے، مگر یہ سند سعید بن سفیان کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے 🔍 علّت / فنی نکتہ: ثقہ راوی القاسم بن الفضل نے اسے باقر عن عائشہ کے طریق سے روایت کیا ہے جو زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے، ایسا لگتا ہے سعید سے اس میں غلطی ہوئی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2236 in Urdu