المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
85. النهي عن المحاقلة والمخاضرة والمنابذة
محاقلہ، مخاضرة اور منابذة کی بیع سے ممانعت۔
حدیث نمبر: 2376
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا عثمان بن محمد بن عثمان بن ربيعة بن أبي عبد الرحمن، حدثنا عبد العزيز بن محمد الدَّرَاوَردي، عن عمرو بن يحيى المازني، عن أبيه، عن أبي سعيد الخُدْري، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا ضَرَرَ ولا إضْرارَ (1) ، من ضارَّ ضارَّه اللهُ، ومن شاقَّ شاقَّ اللهُ عليه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2345 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2345 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہ نقصان کرو، نہ کراؤ۔ جو کسی کو نقصان دے گا، اللہ اس کو نقصان دے اور جو کسی کو مشقت میں مبتلا کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو مشقت میں مبتلا کرے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2376]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2376 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ع): ولا ضرار. وكلاهما صحيح.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ع) میں "ولا ضرار" کے الفاظ ہیں، اور "لا ضرر ولا ضرار" دونوں طرح پڑھنا صحیح ہے۔
(2) صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عثمان بن محمد بن عثمان، وقد تابعه عبد الملك بن معاذ النَّصِيبي، وهو مجهول أيضًا، وخرَّجه مالك في "موطئه" 2/ 745 عن عمرو بن يحيى، عن أبيه، مرسلًا، وقال ابن عبد البر في "التمهيد" 20/ 157: لم يُختَلَف عن مالك في إرسال هذا الحديث. قال النووي في "أربعينه" الحديث (32): له طرق يقوّي بعضها بعضًا، ووافقه ابن رجب في "جامع العلوم والحكم"، وكذلك قال ابن الصلاح فيما نقله عنه ابن دقيق العيد في "شرح الأربعين النووية".
⚖️ درجۂ حدیث: اپنے شواہد کی بنا پر یہ حدیث "صحیح" ہے۔ اگرچہ اس مخصوص سند میں عثمان بن محمد مجہول ہے، لیکن امام مالک (موطا: 2/ 745) نے اسے مرسل روایت کیا ہے اور امام نووی و ابن رجب کے مطابق اس کے متعدد طرق ایک دوسرے کو قوت دیتے ہیں۔
وأخرجه البيهقي 6/ 69 عن أبي عبد الله الحاكم وآخرين، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی (6/ 69) نے حاکم کی سند سے اسی طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو بكر الدِّينَوَري في "المجالسة" (3160) عن عباس بن محمد، والدارقطني (3079) و (4541) عن إسماعيل بن محمد الصفار، عن عباس بن محمد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوبکر دینوری نے "المجالسہ" (3160) اور دارقطنی نے اسماعیل صفار کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابنُ عبد البر في "التمهيد" 20/ 159 من طريق عبد الملك بن معاذ النصيبي، عن عبد العزيز بن محمد الدراوردي، به.
📖 حوالہ / مصدر: ابن عبدالبر نے "التمہید" (20/ 159) میں عبدالملک بن معاذ کے طریق سے الدراوردی سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مالك في "الموطأ" 2/ 745، وعنه الشافعي في "الأم" 8/ 639، والقعنبي عند ابن المنذر ¤ ¤ في "الأوسط" (6653)، وابن بكير عند البيهقي 6/ 70 و 10/ 133 عن عمرو بن يحيى، عن أبيه، مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: امام مالک نے موطا میں، امام شافعی نے "الام" میں اور ابن المنذر نے اسے مرسل روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديث أبي صِرْمة عند أحمد 25/ (15755)، وأبي داود (3635)، وابن ماجه (2342)، والترمذي (1940)، وحسَّنه الترمذي، وجوّد إسناده ابن مفلح في "الآداب الشرعية" 1/ 43.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید ابو صرمہ کی روایت سے ہوتی ہے (ترمذی نے اسے حسن کہا ہے) اور ابن مفلح نے اس کی سند کو "جید" قرار دیا ہے۔
وحديث جابر بن عبد الله عند الطبراني في "الأوسط" (5193)، ورجاله لا بأس بهم، غير أنه روي مرسلًا عند أبي داود في "المراسيل" (407)، لكن رجال الموصول أوثق وأحسن حالًا، إلّا أنَّ في إسناده عنعنة محمد بن إسحاق، لكنه في الجملة يصلح للاستشهاد.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت جابر کی روایت (طبرانی: 5193) بھی شاہد کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے، اگرچہ اس کی سند میں ابن اسحاق کا عنعنہ موجود ہے۔
وحديث ابن عباس وعبادة بن الصامت عند ابن ماجه (2340) و (2341).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ابن عباس اور عبادہ بن صامت کی روایات بھی ابن ماجہ (2340، 2341) میں موجود ہیں۔
وانظر تمام شواهده في تحقيقنا على "سنن ابن ماجه" عند حديث عبادة.
📝 نوٹ / توضیح: اس کے تمام شواہد کی تفصیل ہماری "سنن ابن ماجہ" کی تحقیق (حدیث عبادہ) میں ملاحظہ کریں۔