المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. شأن نزول ( سبح لله ما فى السماوات وما فى الأرض ) . إلى آخر السورة
سورۂ سبح للہ ما فی السماوات وما فی الارض کے نزول کا سبب، آخر سورت تک۔
حدیث نمبر: 2418
أخبرَناه أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبوب بن موسى الأَنطاكي، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو سلمة بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن سَلَام قال: اجتمَعْنا فتذاكَرْنا أيُّكم يأتي رسولَ الله ﷺ فيسألَه: أيُّ الأعمالِ أحبُّ إلى الله؟ ثم تفرّقْنا وهِبْنا أن يأتيَه أحدٌ، فأرسل إلينا رسولُ الله ﷺ، فَجَمَعَنا، فجعل يُومِئُ بعضُنا إلى بعض، فقرأ علينا: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ إلى آخر السورة (2) . قال أبو سلمة: فقرأها علينا عبد الله بن سلَام إلى آخرها، قال يحيى بن أبي كثير: وقرأها علينا أبو سلمة من أولها إلى آخرها، قال الأوزاعي: وقرأها علينا يحيى من أولها إلى آخرها، وقال أبو إسحاق: وقرأها علينا الأوزاعي من أولها إلى آخرها. قال محبوبٌ: وقرأها علينا أبو إسحاق من أولها إلى آخرها؛ يعني سورةَ الصَّفِّ.
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ ہم اکٹھے بیٹھے آپس میں یہ گفتگو کر رہے تھے کہ کون شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر یہ دریافت کرے کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے پھر ہم وہاں سے چلے گئے اور یہ طے نہ کر سکے کہ آپ کے پاس کون جائے گا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف پیغام بھیجا (اور ہمیں بلوایا) ہم سب جمع ہو گئے اور ہم (اپنا مسئلہ حل ہو جانے کی خوشی میں) ایک دوسرے کی طرف اشارہ کرنے لگے پھر آپ نے ہمارے سامنے (سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمَوَاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ) “ آخر تک ساری سورت پڑھی۔ ٭٭ ابوسلمہ فرماتے ہیں: ہمارے سامنے عبداللہ بن سلام نے بھی پوری سورت پڑھی، یحیی بن ابی کثیر فرماتے ہیں: ہمارے سامنے ابوسلمہ نے شروع سے لے کر آخر تک پوری سورت پڑھی، محبوب فرماتے ہیں: ہمارے سامنے ابواسحٰق نے شروع سے آخر تک پوری سورۂ صف پڑھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2418]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2418 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل محبوب بن موسى، وتابعه معاوية بن عمرو ¤ ¤ الأزدي فيما يأتي برقم (3848). أبو إسحاق الفزاري: هو إبراهيم بن محمد بن الحارث.
⚖️ درجۂ حدیث: "حدیث صحیح" اور محبوب بن موسیٰ کی وجہ سے سند "قوی" ہے۔ ابو اسحاق الفزاری اس کے جلیل القدر راوی ہیں۔
وانظر ما قبله.
🧾 تفصیلِ روایت: اور اس سے پچھلی روایت ملاحظہ کریں۔