المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. رأس الأمر الإسلام وعموده الصلاة وذروة سنامه الجهاد
دین کی اصل اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے۔
حدیث نمبر: 2440
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب (1) ، أخبرني أبو صَخْر، عن يزيد بن قُسَيط اللَّيثي، عن إسحاق بن سعد بن أبي وقّاص، حدثني أبي: أنَّ عبد الله بن جَحْشٍ قال يوم أُحُدٍ: ألا تأتي ندعُو اللهَ، فخَلَوا في ناحيةٍ، فدعا سعدٌ، قال: يا ربِّ، إذا لَقِينا القومَ غدًا، فلَقِّني رجلًا شديدًا بأسُه، شديدًا حَرْدُه، فأقاتِلُه فيك ويُقاتِلُني، ثم ارزقْني عليه الظَّفَر حتى أقتُلَه وآخُذَ سَلَبَه، فقام عبدُ الله بن جَحْش، ثم قال: اللهم ارزقني غدًا رجلًا شديدًا حَردُه، شديدًا بأسُه، أقاتِلُه فيك ويُقاتِلُني، ثم يأخُذُني فيَجدَعُ أنفي، فإذا لقيتُك غدًا، قلتَ: يا عبدَ الله، فيمَ جُدِعَ أنفُك وأُذنُك؟ فأقول: فِيكَ وفي رسولك، فتقولُ: صدقتَ. قال سعدُ بن أبي وقاص: يا بُنيَّ، كانت دعوةُ عبد الله بن جَحْشٍ خيرًا مِن دعوتي، لقد رأيتُه آخرَ النهارِ، وإنَّ أُذُنَه وأنفَه لَمُعلَّقَانِ في خَيطٍ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2409 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2409 - على شرط مسلم
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اُحد کے دن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میرے ساتھ آؤ ہم مل کر اللہ سے دعا مانگیں گے، وہ لوگ ایک جگہ پر الگ ہو گئے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے یوں دعا مانگی: اے میرے ربّ! کل جب ہماری دشمن سے مڈ بھیڑ ہو تو میرا سامنا طاقت ور، سخت جنگجو سے ہو، میں تیری رضا کی خاطر اس کے ساتھ لڑوں اور وہ میرے ساتھ لڑے، پھر تو مجھے اس پر فتح دے، میں اس کو قتل کروں اور اس کا ساز و سامان سمیٹ لوں، پھر عبداللہ بن جحش کھڑے ہوئے اور انہوں نے یوں دعا مانگی:” اے اللہ! کل میرا سامنا کسی ایسے شخص سے ہو جو بہت طاقتور اور سخت جنگجو ہو، میں تیری رضا کی خاطر اس سے لڑوں اور وہ مجھ سے لڑے پھر وہ مجھے پکڑ کر میرے کان اور ناک کاٹ ڈالے پھر کل جب میں تجھ سے ملوں تو تُو مجھ سے پوچھے: اے اللہ کے بندے! تیرے کان اور ناک کیوں کٹے ہوئے ہیں؟ تو میں کہوں: یا اللہ! تیری اور تیرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا میں۔ پھر وہ فرمائے: تو نے سچ کہا۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بیٹے عبداللہ بن جحش کی دعا، میری دعا سے اچھی تھی، میں نے اسی دن شام کے وقت عبداللہ کو دیکھا کہ اس کے کان اور ناک ایک دھاگے میں لٹک رہے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2440]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2440 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) سقط ابن وهب من (ز) و (ص) و (ع)، وأثبتناه من (ب) ومن "إتحاف المهرة" (6965)، وهو ثابت أيضًا في رواية البيهقي 6/ 307 إذ رواه عن الحاكم بسنده. ولا يُدرِك ابنُ عبد الحَكَم المصري السماعَ من أبي صخر حميد بن زياد المدني، فعمره يوم توفي أبو صخر سبع سنين تقريبًا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن وہب کا نام بعض نسخوں سے ساقط ہے مگر دیگر معتبر نسخوں اور بیہقی کی روایت میں ثابت ہے۔ ابن عبدالحکم کا ابو صخر سے سماع ممکن نہیں کیونکہ ان کی وفات کے وقت وہ صرف سات سال کے تھے۔
(2) إسناده صحيح إن شاء الله، لأنَّ إسحاق بن سعد، وإن كان لم يرو عنه غير يزيد بن قُسيط، وهو يزيد بن عبد الله بن قُسَيط، ولم يُوثِّقه غير العِجلي وابن حبان، قد ولد في حياة النبي ﷺ، وبه كان سعدٌ يُكنى، فهو كبير أولاد سعد بن أبي وقاص، وقد روى سعيد بن المسيّب مرسلًا بعضَ حديثه هذا كما سيأتي برقم (4963).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ان شاء اللہ صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن سعد اگرچہ زیادہ معروف نہیں مگر وہ نبی ﷺ کی زندگی میں پیدا ہوئے اور ان کے والد سعد بن ابی وقاصؓ کی کنیت انھی کے نام پر تھی۔ سعید بن مسیب نے بھی اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "الكبرى" 6/ 307 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام بیہقی نے السنن الکبریٰ 6/ 307 میں حاکم کی اسی سند سے اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري في "تاريخه الكبير" 1/ 387، وأبو القاسم البَغَوي في "معجم الصحابة" (1518)، والدارقطني في "المؤتلف والمختلف" 4/ 1950، وأبو طاهر المخلِّص في "المخلصيات" (2049)، وأبو نعيم في "الحلية" 1/ 108، وفي "معرفة الصحابة" (4047)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 20/ 340، وابن الجوزي في "الثبات عند الممات" ص 105 - 106 من طرق عن ابن وهب، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "تاریخ کبیر"، بغوی نے "معجم الصحابہ"، دارقطنی، ابونعیم، ابن عساکر اور ابن الجوزی نے مختلف طرق سے ابن وہب سے روایت کیا ہے۔
والحرد، بفتح الراء وسكونها: الغضب والغيظ.
📝 نوٹ / توضیح: "الحرد" (راء کے فتحہ یا سکون کے ساتھ) کے معنی غصہ اور غیظ کے ہیں۔
والسَّلَب: ما يأخذه أحد القَرْنين من قَرْنه ممّا يكون عليه من سلاح وثياب ودابَّة وغيرها.
📝 نوٹ / توضیح: "سلب" سے مراد وہ سامان (ہتھیار، لباس، سواری) ہے جو ایک لڑنے والا دوسرے مقتول سے حاصل کرتا ہے۔