المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
14. من سأل الله القتل من عند نفسه صادقا ثم مات أو قتل ، فله أجر الشهيد
جس نے سچے دل سے اللہ سے شہادت مانگی، پھر وہ مر گیا یا قتل ہو گیا، اسے شہید کا اجر ملے گا۔
حدیث نمبر: 2443
وحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، حدثني عبد الرحمن بن شُريح، أنَّ سَهْل بن أبي أُمامة بن سَهْل بن حُنَيف حدثه عن أبيه، عن جده، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن سألَ اللهَ الشهادةَ بصِدْقٍ، بَلَّغَهُ اللهُ منازِلَ الشُّهداءِ وإن ماتَ على فِراشِه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2412 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2412 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ (اپنے دادا سے) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سچے دل سے اللہ سے شہادت کا سوال کیا، اللہ اسے شہداء کے درجات تک پہنچا دے گا اگرچہ وہ اپنے بستر پر ہی فوت ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2443]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2443]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن وهب: هو عبد الله.» [ترقيم الرساله 2443] [ترقيم الشركة 2425] [ترقيم العلميه 2412]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2443 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. ابن وهب: هو عبد الله.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابن وہب سے مراد عبداللہ بن وہب ہیں۔
وأخرجه مسلم (1909)، وأبو داود (1520) وابن ماجه (2797)، والنسائي (4355)، وابن حبان (3192) من طرق عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسلم (1909)، ابوداؤد، ابن ماجہ، نسائی اور ابن حبان نے ابن وہب کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام حاکم کا اسے (مستدرک میں) لانا ان کی بھول ہے کیونکہ یہ پہلے ہی صحیح مسلم میں موجود ہے۔
وأخرجه الترمذي (1653) من طريق القاسم بن كثير، عن عبد الرحمن بن شريح، به. وقال: حسن غريب.
📖 حوالہ / مصدر: امام ترمذی نے اسے القاسم بن کثیر عن عبدالرحمن بن شریح کے طریق سے روایت کر کے "حسن غریب" کہا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2443 in Urdu