المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. لا تتمنوا لقاء العدو وسلوا الله العافية
دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو۔
حدیث نمبر: 2445
أخبرنا أبو عبد الله الحُسين بن الحَسن الأديب، حدثنا عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مَسَرّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيْوة بن شُريح، حدثنا أبو هانئٍ الخَوْلاني، أنه سمع أبا عبد الرحمن الحُبَليّ يقول: سمعتُ عبدَ الله بن عمرو يقول: قال رسول الله ﷺ:"ما من غازِيَةٍ تَغزُو في سَبيلِ الله فيُصيبُون غنيمةً، إلّا تَعجَّلُوا ثُلثَي أجرِهم مِن الآخرة، ويَبقَى لهمُ الثُّلثُ، فإن لم يُصِيبُوا غَنيمةً، تَمَّ لهم أجرُهم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2414 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2414 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا جو لشکر مالِ غنیمت حاصل کر لیتا ہے، وہ اپنے آخرت کے اجر کا دو تہائی حصہ (دنیا میں ہی) جلدی حاصل کر لیتا ہے اور ان کے لیے ایک تہائی باقی رہ جاتا ہے، اور اگر انہیں غنیمت حاصل نہ ہو، تو ان کا اجر (آخرت کے لیے) مکمل ہو جاتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2445]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2445]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو هانئ الخَولاني: هو حميد بن هانئ، وأبو عبد الرحمن الحُبلي: هو عبد الله بن يزيد المَعَافِري.» [ترقيم الرساله 2445] [ترقيم الشركة 2427] [ترقيم العلميه 2414]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2445 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو هانئ الخَولاني: هو حميد بن هانئ، وأبو عبد الرحمن الحُبلي: هو ¤ ¤ عبد الله بن يزيد المَعَافِري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راوی ابو ہانئ الخولانی سے مراد حمید بن ہانئ ہیں، اور ابو عبدالرحمن الحبلی سے مراد عبداللہ بن یزید المعافری ہیں۔
وأخرجه أحمد 11/ (6577)، ومسلم (1906)، وأبو داود (2497)، وابن ماجه (2785)، والنسائي (4318) من طرق عن عبد الله بن يزيد المقرئ، بهذا الإسناد. وقَرَنَ عبدُ الله بن يزيد في بعض الروايات بحيوة عبدَ الله بنَ لهيعة. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (6577)، مسلم (1906)، ابوداؤد (2497)، ابن ماجہ (2785) اور نسائی (4318) نے عبداللہ بن یزید المقرئ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کی بھول (ذہول) ہے کیونکہ یہ پہلے ہی صحیح مسلم میں موجود ہے۔
وأخرجه مسلم (1906) من طريق نافع بن يزيد، عن أبي هانئ الخولاني، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام مسلم (1906) نے اسے نافع بن یزید عن ابی ہانئ الخولانی کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
غازية: تأنيث غازٍ، وهو صفة لجماعة غازيةٍ.
📝 نوٹ / توضیح: "غازیۃ" لفظ غازی کی تانیث ہے، اور یہ جہاد کرنے والی جماعت یا گروہ کی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2445 in Urdu