المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
53. شكاية الجمل عند النبى صلى الله عليه وآله وسلم
نبی ﷺ کے پاس اونٹ کی شکایت کا واقعہ۔
حدیث نمبر: 2516
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران الأصبهاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا مَهْدي بن ميمون، حدثنا محمد بن عبد الله ابن أبي يعقوب، عن الحسن بن سعد مولى الحسين (1) بن علي، عن عبد الله بن جعفر، قال: أردَفَني رسولُ الله ﷺ ذات يوم خلفه، فأسرَّ إليَّ حديثًا لا أحدِّث به أحدًا من الناس. قال: وكان أحبُّ ما استَتَر به رسول الله ﷺ لحاجتِه هدفًا أو حائشَ نخلٍ، فدخل حائطًا لرجل من الأنصار، فإذا جَمَلٌ فلمّا رأى النبيَّ ﷺ حنَّ إليه، وذَرَفَتْ عيناهُ، فأتاه النبيُّ ﷺ فَمَسَحَ ذِفْراته (1) فَسَكَن، فقال: مَن ربُّ هذا الجَمَل؟ لمن هذا الجَمَل؟ قال: فجاء فتًى من الأنصار فقال هو لي يا رسول الله، فقال:"ألا تتَّقي الله في هذه البَهيمةِ التي مَلّكَكَ الله إياها، فإنّه شَكَا إِليَّ أنك تُجِيعُه وتُدْئبُه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2485 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2485 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے سوار کروایا اور بڑی رازداری کے ساتھ مجھے ایک بات بتائی جو میں نے کسی کو نہیں بتائی، عبداللہ بن جعفر فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے کسی ایسی چیز کو بہت پسند کرتے تھے جو آپ کو چھپا لے، کوئی بلند جگہ عمارت، ٹیلہ، پہاڑ یا پھر کسی درخت کا گنجان حصہ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (قضائے حاجت کے لیے) ایک انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے وہاں ایک اونٹ تھا، اس نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو رونے لگ گیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے، اس کی گردن پر ہاتھ پھیرا تو وہ چپ ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ یہ اونٹ کس کا ہے؟ (عبداللہ بن جعفر) فرماتے ہیں: ایک انصاری نوجوان آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس جانور کے متعلق اللہ سے نہیں ڈرتا؟ اللہ نے جس کو تیری ملکیت میں دیا ہے، اس نے ہمیں شکایت کی ہے کہ تو اس کو بھوکا رکھتا ہے اور اس کو مشقت میں ڈالتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2516]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2516 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا وقع في النسخ الخطية، وكذلك هو في "السنن الصغرى" (2918) للبيهقي عن المصنف ¤ ¤ والذي في مصادر ترجمته أنه مولى الحَسَن بن علي، وكذا وقع في مصادر التخريج، وقيل: هو مولى علي بن أبي طالب. وعلى كل حال فهو مولى للبيت العلوي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخوں اور بیہقی میں 'مصنف' سے مروی ہے، لیکن کتبِ تراجم اور تخریج کے مطابق یہ راوی حضرت حسن بن علی کے مولیٰ ہیں، اور ایک قول کے مطابق حضرت علی بن ابی طالب کے مولیٰ ہیں۔ بہرصورت یہ اہل بیت کے مولیٰ ہیں۔
(1) الذِّفْراة، واحدة، الذِّفْرى، كما قال ابن سيْده في "المخصص" 4/ 482، وهي العظم الناتئ خلف الأذن.
📝 نوٹ / توضیح: 'الذفرۃ' (واحد: الذفریٰ) سے مراد کان کے پیچھے والی ابھری ہوئی ہڈی ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن مهران، وقد توبع. عبد الله بن جعفر: هو ابن أبي طالب.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور احمد بن مہران کی وجہ سے سند حسن ہے، ان کی متابعت موجود ہے۔ عبد اللہ بن جعفر سے مراد ابن ابی طالب ہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (1745)، ومسلم (342) و (2429)، وأبو داود (2549)، وابن ماجه (340)، وابن حبان (1411) من طرق عن مهدي بن ميمون، بهذا الإسناد. واقتصر مسلم في الموضع الأول وابن ماجه وابن حبان على قطعة الاستتار لقضاء الحاجة، واقتصر مسلم في الموضع الثاني على الشطر الأول.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، مسلم، ابوداؤد، ابن ماجہ اور ابن حبان نے مہدی بن میمون کے طریق سے روایت کیا ہے۔ امام مسلم اور دیگر نے بعض مقامات پر صرف قضائے حاجت کے وقت پردے والے حصے پر اکتفا کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (1754)، وابن حبان (1412) من طريق جرير بن حازم، عن محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب، به. ولم يذكر ابن حبان في روايته قصة الجمل.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابن حبان نے جریر بن حازم کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر ابن حبان نے اونٹ والا قصہ ذکر نہیں کیا۔
(3) قد أخرجه مسلم كما سبق، لكنه اختصر المتن!
📝 نوٹ / توضیح: جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، امام مسلم نے اسے روایت کیا ہے مگر متن میں اختصار کیا ہے۔