المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
73. دعاء الغازي عند بيتوتته
مجاہد کے رات گزارنے کے وقت کی دعا
حدیث نمبر: 2544
حدَّثَناه محمد بن صالح، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى وحدثنا علي بن عيسى، حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشي؛ قالا: حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا أبو إسحاق، عن المهلَّب بن أبي صُفْرة، قال: سمعتُ مَن يحدِّث عن النبي ﷺ، قال: قال وهو يخاف أن يُبيَّته أبو سفيان، فقال:"إن بُيَّتُّم فإِنَّ دَعوتكم حمَ لا يُنصرون" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، إلَّا أنَّ فيه إرسالًا (3) ، فإذا الرجلُ الذي لم يُسمِّه المُهلّبُ بن أبي صُفْرة البراءٌ بنُ عازب:
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، إلَّا أنَّ فيه إرسالًا (3) ، فإذا الرجلُ الذي لم يُسمِّه المُهلّبُ بن أبي صُفْرة البراءٌ بنُ عازب:
سیدنا مہلب بن صفرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے ایسے آدمی نے یہ بات بتائی ہے جس نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم پر شب خون مارا جائے تو تمہارا پوشیدہ لفظ (کوڈورڈ) ” حم لاینصرون “ ہونا چاہیے۔ (راوی فرماتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خدشہ تھا کہ ابوسفیان ان پر شب خون مار دے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے تاہم اس میں ارسال ہے اور مہلب بن ابی صفرہ نے جس راوی کا نام نہیں لیا تھا وہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ ہیں (جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2544]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2544 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن زهيرًا - وهو ابن معاوية - ممّن سمع من أبي إسحاق - وهو عمرو بن عبد الله السَّبِيعي - بعد تَغيُّره، ولذلك اختُلف عليه في وصل هذا الحديث وإرساله على أنَّ وصله ثابت من رواية سفيان الثَّوري وشريك النخعي، وهما من أثبت الناس في أبي إسحاق السَّبيعي.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور راوی ثقات ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: زہیر نے ابواسحاق سے ان کے اختلاط (تغیر) کے بعد سنا تھا، اس لیے ان کی روایت میں وصل و ارسال کا اختلاف ہوا، مگر ثوری اور شریک کی روایات سے اس کا 'موصول' ہونا ثابت ہے۔
وأخرجه النسائي (10379) من طريق الحسين بن عيّاش الجزري، عن زهير بن معاوية، عن أبي إسحاق، عن المهلب بن أبي صفرة، مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: نسائی نے اسے حسین بن عیاش کے طریق سے 'مرسلًا' روایت کیا ہے۔
وتابع حُسينًا على الإرسال يحيى بن آدم عند ابن أبي شيبة 14/ 414.
🧩 متابعات و شواہد: یحییٰ بن آدم نے بھی ابن ابی شیبہ میں اس کے مرسل ہونے کی تائید کی ہے۔
(3) كذا أطلق الحاكم على إبهام الصحابي اسمَ الإرسال، مع أنَّ الإرسال في عُرف جمهور المحدثين يُطلق على ما لم يُذكر فيه الصحابيُّ أو غيره، لا على ما ذكر مُبهمًا!!
📌 اہم نکتہ: امام حاکم نے صحابی کے مبہم ہونے کو "ارسال" کہہ دیا ہے، جبکہ جمہور محدثین کے نزدیک ارسال وہ ہے جہاں صحابی کا ذکر ہی نہ ہو، نہ کہ جہاں وہ مبہم مذکور ہو۔