المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
74. تبديل الشعار
نعرہ بدلنے کا بیان
حدیث نمبر: 2550
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن أبي إسحاق، عن رجل من مُزَينة، قال: سمع رسولُ الله ﷺ رجلًا ينادي في شِعاره: يا حرامُ، يا حرامُ، فقال رسول الله ﷺ:"يا حلالُ، يا حلالُ" (3) . صحيح على شرط الشيخين على الإرسال (1) ، وإذا الرجل الذي لم يُسمِّه محمد ابن كثير عن الثَّوْري عبد الله بن مُغفَّل المزني:
سیدنا ابواسحاق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ مزینہ قبیلے کے ایک شخص کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا جو کہ اپنے پوشیدہ لفظ (کوڈورڈ) میں ” یا حرام یا حرام “ پکار رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بولے: (وہ لفظ مت بولو بلکہ کہو) ” یاحلال یا حلال “۔ ٭٭ یہ حدیث ارسال کے باوجود شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار پر صحیح ہے اور محمد بن کثیر نے ثوری کے واسطے سے روایت کرتے ہوئے جس راوی کا نام ذکر نہیں کیا تھا وہ عبداللہ بن مغفل مزنی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2550]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2550 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح إن ثبت سماع أبي إسحاق -وهو عمرو بن عبد الله السَّبيعي- من الرجل المزني، وهذا الرجل المزني هو صحابي الحديث، كما وقع مصرَّحًا به في بعض روايات الحديث أنه سمع النبيَّ ﷺ يقول ذلك، وقد لقي أبو إسحاق جماعة من الصحابة وسمع منهم، ورأى جماعة ولم يسمع منهم. وجاء في الطريق التالية تصريحه باسم الصحابي أنه عبد الله بن مُغفَّل، وقد ورد في عدة روايات أنَّ أبا إسحاق رآه يُصلِّي، فلعله يكون سمع منه، هذا إن سلَّمنا بصحة الطريق إليه في حديث الشعار كما في الرواية التالية، فإنَّ فيها مقالًا كما سيأتي.
⚖️ درجۂ حدیث: اگر ابواسحاق السبیعی کا اس 'مزنی' شخص سے سماع ثابت ہو جائے تو سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: یہ مزنی شخص دراصل صحابی رسول ہیں۔ اگلی روایت میں صراحت ہے کہ وہ عبد اللہ بن مغفل ہیں۔ ابواسحاق نے انہیں نماز پڑھتے دیکھا ہے، لہٰذا سماع کا امکان موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 25 / (15865) عن يحيى بن آدم، عن سفيان الثَّوري، به.
📖 حوالہ: امام احمد نے (15865) میں یحییٰ بن آدم عن سفیان ثوری کی سند سے اسے روایت کیا ہے۔
(1) كذا سمى المصنف إبهام الصحابي إرسالًا، وليس هذا من عُرْفِ جمهور المحدِّثين.
📌 اہم نکتہ: امام حاکم نے صحابی کے مبہم ہونے کو "ارسال" کہا ہے، جبکہ جمہور محدثین کے نزدیک یہ ارسال نہیں کہلاتا۔