المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
75. مرافعة الناس إلى عمر أن السرية هلكت فى الغزو
لوگوں کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس یہ مقدمہ لے جانا کہ لشکر ہلاک ہو گیا
حدیث نمبر: 2552
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا هاشم (3) ابن يونس العَصَّار (4) بمصر، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث، حدثني عبد الرحمن بن خالد بن مُسافِر، عن ابن شهاب، أنَّ مالك بن أوس بن الحَدَثان كان يحدّث: أنَّ عمر بن الخطاب خرج في مجلس وهو في مسجد رسول الله ﷺ، وهم يَذكُرون سَرِيّةً من السرايا هلكت في سبيل الله، فيقول قائل منهم: هم عُمّالُ الله، هَلَكوا في سبيلِه، وقد وَجَبَ لهم أجرُهم عليه، ويقول قائل: الله أعلمُ بهم، لهم ما احتَسَبُوا، فلما رأوا عمرَ مُقبِلًا متوكئًا على عصاهُ سكتُوا، فأقبل عمرُ حتى سلَّم، فقال: ما كنتُم تتحدّثون؟ قالوا: كنا نذكُر هذه السريّةَ التي هلكتْ في سبيل الله، يقول قائلٌ منا: هم عُمّالُ الله هَلَكوا في سبيله، وقد وَجَبَ لهم أجرُهم عليه، ويقول قائل: الله أعلمُ بهم، لهم ما احتَسَبُوا، فقال عمر: الله أعلمُ، إنَّ من الناس ناسًا يقاتِلون رياءً وسُمعةً، وإنَّ من الناس ناسًا يُقاتلون، وإن دَهَمَهم القتالُ فلا يستطيعون إلَّا إياهُ، وإنَّ من الناس ناسًا يُقاتِلون ابتغاءَ وجهِ الله، فأولئك الشهداءُ، وكلُّ امرئ منهم يُبعَثُ على الذي يموتُ عليه، والله ما تدري نفسٌ ماذا مفعولٌ بها، ليس هذا الرجلَ الذي قد بُيِّن لنا أنه قد غُفِر له ما تقدَّم من ذنبِه وما تأخّرَ، ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري ولم يُخرجاه. إنما اتفقا (2) من هذا الباب على حديث أبي موسى:"مَن قاتَلَ لتكونَ كلمةُ الله هي العُلْيا، فهو في سبيلِ الله"
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2520 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري ولم يُخرجاه. إنما اتفقا (2) من هذا الباب على حديث أبي موسى:"مَن قاتَلَ لتكونَ كلمةُ الله هي العُلْيا، فهو في سبيلِ الله"
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2520 - على شرط البخاري
سیدنا مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ، ایک دفعہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسجدِ نبوی میں گئے، وہاں پر کچھ لوگ بیٹھے کسی لشکر کے متعلق گفتگو کر رہے تھے، جو جہاد میں شہید ہو گئے تھے، ان میں سے ایک نے کہا: وہ اللہ کے ملازم تھے، اس کے راستے میں شہید ہوئے ہیں، ان کا اجر اللہ پر واجب ہو چکا ہے، ایک نے کہا: ان کی جو نیتیں تھیں، ان کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ جب ان لوگوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے عصا کے ساتھ ٹیک لگائے انہی کی طرف متوجہ ہیں تو سب خاموش ہو گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور ان کو سلام کیا۔ آپ نے پوچھا: تم کیا گفتگو کر رہے تھے؟ انہوں نے کہا: ہم اسی لشکر کے بارے میں بات کر رہے تھے، جو اللہ کی راہ میں شہید ہو گئے، ہم میں سے ایک شخص کا موقف یہ ہے کہ وہ اللہ کے ملازم تھے، وہ اسی کی راہ میں شہید ہوئے ہیں، اس لیے اللہ کے ذمہ ان کا اجر واجب ہو چکا ہے اور ایک کا موقف یہ ہے کہ ان کی اچھی نیتوں کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو جہاد کرتے ہیں اور ان کی نیت صرف جہاد ہی کی ہوتی ہے تو وہ اس کے علاوہ کسی دوسری چیز کی استطاعت بھی نہیں رکھتے اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ریاکاری کے لیے جہاد کرتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ کی رضا کے حصول کی خاطر جہاد کرتے ہیں، یہی لوگ شہید ہیں اور ان میں سے ہر شخص اس حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر ان کو موت آئی۔ خدا کی قسم! کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ خدا کی قسم کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ اور یہ شخص وہ نہیں ہے جس کے بارے میں ہمیں پتہ ہے کہ ان کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس موضوع پر ابوموسیٰ کی روایت کردہ یہ حدیث نقل کی ہے ” جو شخص اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑے، وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے “ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2552]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2552 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) وقع في النسخ الخطية هنا: هشام، وكذا فيما سيأتي برقم (8814)، وقد ترجم الذهبي لهذا الراوي في موضعين من "تاريخ الإسلام" 6/ 636 و 844، سمّاه في الثاني منهما هشامًا، أما في الأول فسماه هاشمًا كما أثبتنا، وكما هو في المواضع الأخرى عند المصنف، وهو الصواب إن شاء الله، فقد نص عليه الخطيب البغدادي في "تلخيص المتشابه في الرسم" 2/ 652 أنه بتقديم الألف على الشين، وكذا سمّاه ابن ماكولا في "الإكمال" 6/ 388، والسمعاني في "الأنساب"، كلاهما في رسم (العصّار) بالعين والصاد المهملتين.
🔍 تصحیح نام: خطی نسخوں میں 'ہشام' لکھا ہے، جبکہ درست نام ہاشم ہے، جیسا کہ خطیب بغدادی اور ابن ماکولا نے صراحت کی ہے۔
(4) في النسخ الخطية: هنا القَصَّار، بالقاف، وكذلك هو عند الذهبي في "تاريخه"، وإنما هو العَصَّار بالعين المهملة، كما ضبطه ابن ماكولا والسمعاني. والعَصَّار: نسبة إلى عصر الدُّهن من الرُّزِّ والسِّمسِم.
🔍 تصحیح لقب: نسخوں میں 'القصار' (قاف سے) ہے، جبکہ درست العصار (عین سے) ہے۔ یہ تیل نکالنے (عصر الدہن) کی نسبت سے ہے۔
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم إلَّا عبد الله بن صالح - وهو كاتب الليث - فهو حسن الحديث في المتابعات والشواهد، لكنه لم يُتابَع على وصل هذا الأثر، بل خالفه معمر بن راشد، فرواه عن ابن شهاب الزُّهْري: أنَّ عمر بن الخطاب خرج … فذكره مرسلًا، فهذا هو المحفوظ، لكن جاء نحوه من وجه آخر مرسل عن أبي البَخْتَري الطائي، بسند رجاله ثقات، فيعتضدان، على أنَّ ما بعده يشهد له كذلك، والله تعالى أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: خبر صحیح ہے۔ عبد اللہ بن صالح 'حسن الحدیث' ہیں مگر انہوں نے اسے 'موصول' بیان کرنے میں تفرد کیا ہے، جبکہ معمر بن راشد نے اسے 'مرسل' روایت کیا ہے اور وہی محفوظ ہے۔ تاہم، ابوالبختری کی مرسل روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
وأخرجه تمّام الرازي في "فوائده" (450) من طريق ابن مالك بن أوس بن الحدثان، عن ابن شهاب الزُّهْري، عن مالك بن أوس بن الحدثان، به. وابن مالك بن أوس هذا لم نتبينه، وفي الإسناد إليه يزيد بن عبد الله بن رُزيق، روى عنه جمع، لكن لم يؤثر توثيقه عن أحدٍ. فهذه متابعة ليْنة.
📖 حوالہ: تمام الرازی نے اسے روایت کیا ہے، مگر اس کی سند میں ابن مالک بن اوس نامعلوم ہے، لہٰذا یہ متابعت کمزور (لینہ) ہے۔
وأخرجه ابن المبارك في "الجهاد" (10)، وعبد الرزاق (9563) عن مَعمَر بن راشد، عن الزُّهْري: أنَّ عمر بن الخطاب خرج على مجلس، فذكره مرسلًا.
📖 حوالہ: ابن مبارک اور عبد الرزاق نے اسے زہری سے مرسل روایت کیا ہے کہ حضرت عمر ایک مجلس میں تشریف لائے۔
وأخرجه بنحوه الحارث بن أبي أسامة كما في بغية الباحث للهيثمي (396)، و"المطالب العالية" للحافظ ابن حجر (1927) من طريق أبي البَخْتَري الطائي، مرسلًا كذلك. وقال الحافظ في "المطالب": رجاله ثقات، لكنه منقطع.
📖 حوالہ: حارث بن ابی اسامہ نے ابوالبختری سے مرسل روایت کیا ہے۔ حافظ ابن حجر کہتے ہیں راوی ثقات ہیں مگر سند منقطع ہے۔
(2) أخرجه البخاري (123)، ومسلم (1904).
📖 حوالہ: اسے امام بخاری (123) اور امام مسلم (1904) نے روایت کیا ہے۔