المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
79. قول الشهداء ربنا بلغ قومنا أنا قد رضينا ورضي عنا ربنا
شہداء کا یہ کہنا: اے ہمارے رب! ہماری قوم کو بتا دے کہ ہم راضی ہو گئے اور ہمارا رب بھی ہم سے راضی ہو گیا
حدیث نمبر: 2558
أخبرَنيه عبد الرحمن بن الحسن القاضي بَهَمذان، حدثنا إبراهيم بن الحُسين، حدثنا آدم بن أبي إياس حدثنا شعبة، عن أبي قيس، عن هُزَيل (2) بن شُرَحبيل قال: خرج ناسٌ فقُتِلوا، فقالوا: فلانٌ استُشهِد، فقال عبد الله: إِنَّ الرجلَ لَيقاتلُ للدُّنيا، ويقاتلُ ليُعرَف، وإنَّ الرجلَ لَيموتُ على فراشِه وهو شهيد، ثم تلا ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ (3) أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ﴾ [الحديد: 19] (4) .
سیدنا ہذیل بن شرحبیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کچھ لوگ جہاد کے لیے نکلے اور قتل کر دیئے گئے، لوگوں نے کہا: فلاں شخص شہید ہو گیا، تو عبداللہ بولے آدمی (کبھی) حصولِ دنیا کی غرض سے لڑتا ہے اور (کبھی) اس لیے لڑتا ہے تاکہ اس کی تعریف کی جائے لیکن ایک آدمی ایسا بھی ہوتا ہے جو اپنے بستر پر مرتا ہے لیکن وہ شہید ہوتا ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: (وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖٓ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ وَ الشُّھَدَآئُ عِنْدَ رَبِّھِمْ) (الحدید: 19) ” اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے وہی ہیں کامل سچے اور اوروں پر گواہ اپنے رب کے یہاں “۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2558]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2558 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: هذيل بالذال بدل الزاي، وضبطه ابن ماكولا في باب هزيل وهذيل، وقال النووي في تهذيب الأسماء واللغات في اسم هُزيل: اعلم أنه قد يقع في بعض نسخ "المهذَّب" وكتبٍ مُصحَّفًا، فكتبوه بالذال، وهو غلط صريح وجهل فاحش، وإنما هو بالزاي باتفاق العلماء من كل الطوائف.
🔍 تصحیح: نسخوں میں 'ہذیل' (ذال سے) تحریف ہے، درست نام ہزیل (زا سے) ہے۔ امام نووی کے مطابق اسے ذال سے لکھنا صریح غلطی ہے۔
(3) في نسخنا الخطية غير (ب): ورسوله على الإفراد، ولم يذكرها أحد ممَّن اعتنى بالقراءات منسوبة إلى ابن مسعود أو غيره، والمثبت من نسخة (ب)، وهو الموافق للتلاوة.
🔍 قرأت: نسخہ (ب) کے علاوہ دیگر میں 'ورسولہ' مفرد ہے، مگر تلاوت کے مطابق نسخہ (ب) ہی درست ہے۔
(4) خبر صحيح، عبدُ الرحمن بن الحسن القاضي فيه ضعفٌ، وقد توبع عليه. إبراهيم بن ¤ ¤ الحسين: هو المعروف بابن ديزيل، وأبو قيس: هو عبد الرحمن بن ثروان، وعبد الله: هو ابن مسعود.
⚖️ درجۂ حدیث: خبر صحیح ہے۔ راوی عبد الرحمن القاضی میں ضعف ہے مگر ان کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" بأطول ممّا هنا 27/ 231 عن محمد بن المثنى، عن محمد بن جعفر، عن شعبة بهذا الإسناد
📖 حوالہ: امام طبری نے اسے شعبہ کی سند سے زیادہ تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ولقوله: "وإنَّ الرجل ليموت على فراشه و هو شهيد" شاهدٌ مرفوع صحيح من حديث سهل بن حُنيف تقدم برقم (2443).
🧩 شاہد: اس قول کہ "آدمی بستر پر مر کر بھی شہید ہوتا ہے" کا صحیح شاہد حضرت سہل بن حنیف کی مرفوع حدیث (2443) ہے۔