المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
82. أخذ الخادم أجيرا للغزو .
غزوے کے لیے خادم کو اجرت پر لینا
حدیث نمبر: 2562
أخبرني أبو سعيد أحمد بن يعقوب بن أحمد بن مِهْران الثقفي الزاهد، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنيد المالكي بالرَّي، حدثنا أحمد بن صالح بمصر، حدثني عبد الله بن وهب القرشي، أخبرني عاصم بن حَكيم، عن يحيى بن أبي عمرو السَّيْباني، عن عبد الله بن الدَّيْلمي، أنَّ يعلى بن أُمية (2) قال: أَذِنَ رسول الله ﷺ بالغزو وأنا شيخ كبير ليس لي خادم، فألتمستُ أجيرًا يكفيني وأُجري له سهمَه، فوجدتُ رجلًا، فلما دنا الرحيلُ أتاني فقال: ما أدري ما السُّهْمانُ وما يَبلُغ سهمي، فسمِّ لي شيئًا كان السهمُ أو لم يكن، فسمَّيتُ له ثلاثةَ دنانير، فلما حضرتْ غنيمةٌ أردتُ أن أُجريَ له سهمه فذكرتُ الدنانيرَ، فجئتُ النبيَّ ﷺ، فذكرتُ له أمَره، فقال:"ما أجِدُ له في غزوتِه هذه في الدنيا إلّا دنانيرَه التي سمَّى" (3) . صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2530 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2530 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن دیلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کا اعلان کروا دیا، میں اس وقت بوڑھا تھا اور میرے پاس کوئی خادم بھی نہ تھا، میں نے سوچا کہ کسی شخص کو مزدوری پر رکھ لوں جو میرے ساتھ معاونت کرتا رہے اور میں اس کو ایک حصہ دے دوں گا، تو مجھے ایک آدمی مل گیا، جب روانگی کا وقت قریب آیا تو وہ شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا، میں نہیں جانتا کہ دو حصے کیا ہوں گے اور ان میں سے میرے ایک حصے میں مجھے کیا ملے گا اس لیے آپ کوئی چیز معین کر دیں، چاہے وہ ایک حصہ ہو یا نہ ہو۔ چنانچہ میں نے تین دینار متعین کر دیئے پھر جب (جہاد ختم ہو گیا اور ہمیں فتح ہوئی) اور ہمیں مالِ غنیمت ملا تو میں نے ارادہ کیا کہ اس کا حصہ، اس کی اجرت دے دوں پھر مجھے دیناروں والی بات یاد آ گئی پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس غزوہ میں ان کے حصہ میں دنیا کے مال میں صرف وہی دینار آئے ہیں جو اس نے (اجرت کے طور پر) طے کیے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2562]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2562 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (ز): مُنْية، بدل أمية، وكلاهما صحيح كما قدمنا بين يدي الحديث (2555).
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) میں "امیہ" کے بجائے "منیہ" لکھا ہے، اور یہ دونوں ہی (نام) درست ہیں جیسا کہ ہم حدیث نمبر (2555) سے پہلے مقدمے میں واضح کر چکے ہیں۔
(3) إسناده صحيح عبد الله بن الديلمي: هو ابن فيروز.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی عبداللہ بن الديلمی سے مراد عبداللہ بن فیروز ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2527) عن أحمد بن صالح، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد نے (2527) میں احمد بن صالح کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد تقدَّم نحوه من طريق خالد بن دريك عن يعلى بن أمية برقم (2555).
🧾 تفصیلِ روایت: اسی طرح کی روایت خالد بن دریک کے طریق سے یعلی بن امیہ سے مروی ہے جو پیچھے نمبر (2555) پر گزر چکی ہے۔
والسهمان، بضم السين: جمع سهم.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "السُّہمان" (سین پر پیش کے ساتھ) "سہم" (حصہ/تیر) کی جمع ہے۔