🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. التشديد فى النهبة .
لوٹ مار پر سخت وعید
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2637
حدَّثَناه أبو أحمد محمد بن محمد بن أحمد بن إسحاق العَدْل الصفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنَّاد، حدثنا أسباطُ بن نَصْر، عن سِماك بن حرب، عن ثَعلَبة بن الحَكَم عن ابن عباس، قال: انتَهَبَ الناسُ غنَمًا يومَ خيبر (1) فذَبَحُوها فجعلوا يَطبُخون منها، فجاء رسولُ الله ﷺ، فأمر بالقُدُور فأُكفِئت، وقال:"إنه لا تَصلُحُ النُّهْبةُ" (1) .
سیدنا سماک بن حرب، ثعلبہ بن حکم رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ فتح خیبر کے دن کچھ لوگوں نے غنیمت کا مال (مویشی) لوٹ کر ذبح کر لیے اور پکانے لگ گئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنڈیوں کے الٹنے کا حکم دیا تو تمام ہنڈیاں الٹا دی گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوٹنا جائز نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2637]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2637 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا جاء في النسخ الخطية، وصحَّح عليها في (ز)، وكتب في الهامش مقابلها كلمة "حنين"، وضبَّب فوقها، وكأنه أشار إلى أنه وقع في بعض الروايات عن أسباط ذكرُ حنين، وأنه غير مستقيم. ¤ ¤ قلنا: كذلك وقعت رواية أسباط للبخاري كما في "تاريخه الكبير" 2/ 173، وكذلك وقعت لابن أبي خيثمة في "تاريخه الكبير" (318)، وجزم البخاري بأنَّ من قال: يوم خيبر، فقوله أصح. لكن وقع في "العلل" لابن أبي حاتم (2222) في رواية أسباط ذكر خيبر لا حنين، وهذا يوافق ما وقع في النسخ الخطية عندنا، فالظاهر أنَّ ذكر حنين وقع في بعض الروايات عن أسباط دون بعضٍ، والله أعلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں اسی طرح (خیبر) آیا ہے، تاہم نسخہ (ز) میں اس کی تصحیح کی گئی ہے اور حاشیے میں اس کے سامنے لفظ "حنین" لکھ کر اس پر نشان لگایا گیا ہے، گویا یہ اس طرف اشارہ ہے کہ "اسباط" سے مروی بعض روایات میں "حنین" کا ذکر آیا ہے جو کہ غیر مستقیم (غیر صحیح) ہے۔ 📌 اہم نکتہ: اسباط کی روایت امام بخاری کی "تاریخ کبیر" (2/ 173) اور ابن ابی خیثمہ (318) میں بھی اسی طرح واقع ہوئی ہے، اور امام بخاری نے جزم کے ساتھ فرمایا کہ جس نے "یومِ خیبر" کہا اس کا قول زیادہ صحیح ہے۔ البتہ ابن ابی حاتم کی "العلل" (2222) میں اسباط کی روایت میں "خیبر" کا ذکر ہے "حنین" کا نہیں، جو ہمارے نسخوں کے موافق ہے۔ ظاہر یہی ہے کہ اسباط سے بعض راویوں نے "حنین" اور بعض نے "خیبر" روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن كسابقه، لكن ذكر ابن عباس غير محفوظ فيه كما تقدم.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، اور پچھلی سند کی طرح یہ سند بھی "حسن" ہے، لیکن اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر "غیر محفوظ" (ثابت نہیں) ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا۔
وأخرجه ابن أبي خيثمة في السفر الثاني من "التاريخ الكبير" (318)، والطبراني في "الكبير" (10639) من طرق عن عمرو بن حماد بن طلحة القَنَّاد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی خیثمہ نے "تاریخ کبیر" (318) میں اور طبرانی نے "المعجم الکبیر" (10639) میں عمرو بن حماد بن طلحہ القناد کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما قبله.
📝 نوٹ / توضیح: اس کی سابقہ تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔