🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ .
میری امت میں اختلاف اور تفرقہ پیدا ہو گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2684
أخبرنا إسحاق بن محمد بن خالد الهاشمي بالكوفة، حدثنا محمد بن علي بن عفّان العامِري، حدثنا مالك بن إسماعيل النَّهْدي، أخبرنا إسرائيل بن يونس، عن مسلم الأَعْور، عن حَبَّة (1) العُرَني، قال: دخلتُ أنا وأبو سعيد الخُدْري على حُذيفة، فقلنا: يا أبا عبد الله، حدِّثنا ما سمعتَ من رسول الله ﷺ في الفتنة، قال حذيفةُ: قال رسول الله ﷺ:"دُورُوا مع كتابِ الله حيثُما دارَ"، فقلنا: فإذا اختلف الناسُ فمع من نكون؟ فقال: انظُروا الفئةَ التي فيها ابنُ سُمَيّة، فالْزَمُوها، فإنه يَدُور مع كتابِ الله، قال: فقلت: ومَن ابنُ سُمَيّة؟ قال: أوَما تعرفُه؟ قلت: بَيِّنه لي، قال: عمّار بن ياسر، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول لعمار:"يا أبا اليَقْظانِ، لن تموتَ حتى تَقتُلَك الفئةُ الباغِيةُ عن الطريق" (2) .
هذا حديث له طرق بأسانيد صحيحة، أخرجا بعضها، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2652 - مسلم بن كيسان تركه أحمد وابن معين
حبہ عرنی سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور عرض کیا: اے ابوعبداللہ! ہمیں وہ بات بتائیں جو آپ نے فتنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی کتاب کے ساتھ رہو جدھر وہ مڑے (یعنی کتاب اللہ کی اتباع کرو) ہم نے عرض کیا: جب لوگوں میں اختلاف ہو جائے تو ہم کس کے ساتھ ہوں؟ انہوں نے فرمایا: تم اس گروہ کو دیکھنا جس میں ابنِ سمیہ ہوں، پس تم اسی کے ساتھ وابستہ رہنا کیونکہ وہ اللہ کی کتاب کے ساتھ ہوں گے راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا کہ ابنِ سمیہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: کیا تم انہیں نہیں جانتے؟ میں نے کہا: میرے لیے واضح کر دیں، انہوں نے کہا: وہ عمار بن یاسر ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمار کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اے ابویقظان! تم اس وقت تک نہیں مرو گے جب تک تمہیں راہِ حق سے ہٹا ہوا باغی گروہ قتل نہ کر دے۔
اس حدیث کے مختلف طرق صحیح اسناد کے ساتھ موجود ہیں، شیخین نے ان میں سے بعض کی تخریج کی ہے، مگر ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2684]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل مسلم الأعور - وهو ابن كيسان المُلائي، وقد تركه بعضهم كما نَبَّه عليه الذهبي في "تلخيصه". وقد اختلف عليه في ذكر من كان بصحبة حَبّة العُرَني لما دخل على حذيفة، فذكر هنا في رواية إسرائيل عنه أبا سعيد الخُدْري، وذكر في رواية أبي أسامة ...» [ترقيم الرساله 2684] [ترقيم الشركة 2667] [ترقيم العلميه 2652]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل مسلم الأعور - وهو ابن كيسان المُلائي

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2684 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: خالد، وجاء على الصواب في "إتحاف المهرة" للحافظ (4233).
🔍 فنی نکتہ: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف (غلطی) کی وجہ سے "خالد" ہو گیا ہے، جبکہ درست نام "خلید" ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر کی "اتحاف المہرہ" (4233) میں صحیح درج ہے۔
(2) إسناده ضعيف جدًّا من أجل مسلم الأعور - وهو ابن كيسان المُلائي - وقد تركه بعضهم كما نَبَّه عليه الذهبي في "تلخيصه". وقد اختلف عليه في ذكر من كان بصحبة حَبّة العُرَني لما دخل على حذيفة، فذكر هنا في رواية إسرائيل عنه أبا سعيد الخُدْري، وذكر في رواية أبي أسامة الآتية برقم (5780)، وكذا في رواية محمد بن فضيل عند غير المصنف أبا مسعود، وذكر في رواية علي بن مسهر ابنَ مسعود! حبّة العُرَني: هو ابن جُوَين، وهو ضعيف.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف جداً" (نہایت کمزور) ہے کیونکہ اس میں مسلم الاعور (ابن کیسان ملائی) ہے جسے محدثین نے متروک قرار دیا ہے۔ 🔍 اضطراب: اس راوی نے حَبہ العُرنی کے ساتھی کا نام لینے میں بھی سخت اختلاف کیا ہے؛ کبھی ابوسعید خدری کہا، کبھی ابو مسعود اور کبھی ابن مسعود۔ حَبہ عرنی خود بھی ضعیف راوی ہے۔
وأخرجه البزار (2948)، والطبري في "تاريخه" 5/ 38 - 39، والطبراني في "الكبير" (14430)، وأبو الحسن علي بن عمر السُّكَّري في "مشيخته" (96)، والخطيب في "تاريخ بغداد" 9/ 197 من طريق محمد بن فضيل، وأبو يعلى في "مسنده الكبير" كما في "المطالب العالية" للحافظ (4413)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 43/ 428 من طريق علي بن مسهر، كلاهما عن مسلم الأعور، به. دون قوله: "دُوروا مع كتاب الله حيثما دار". ¤ ¤ وقد روي قوله: "دوروا مع كتاب الله حيثما دار" من حديث معاذ بن جبل عند الطبراني في "الكبير" 20/ (172)، وفي "الصغير" (749)، وفي "مسند الشاميين" (658)، وعنه أبو نعيم في "الحلية" 5/ 165، ورجاله لا بأس بهم، لكن تابعيّه لم يدرك معاذًا.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج بزار، طبری، طبرانی اور خطیب بغدادی وغیرہ نے مختلف طرق سے مسلم الاعور کے واسطے سے کی ہے لیکن ان میں "کتاب اللہ کے گرد گھومو" والے الفاظ نہیں ہیں۔ 🧩 شواہد: یہ جملہ "کتاب اللہ کے گرد گھومو جہاں وہ گھومے" حضرت معاذ بن جبل کی روایت میں طبرانی وغیرہ کے ہاں موجود ہے، اس کے راوی ٹھیک ہیں مگر تابعی کا حضرت معاذ سے سماع ثابت نہیں ہے۔
وقوله ﷺ لعمار: "تقتلك الفئة الباغية" مروي عن جملة من الصحابة، كحديث أبي سعيد الخُدْري الآتي بعده، وحديث عمرو بن حزم وعمرو بن العاص الآتي برقم (2695)، وحديث أم سلمة عند مسلم (2916).
🧩 شواہد: حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی ﷺ کا یہ فرمان کہ "تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا" کئی صحابہ سے مروی ہے، جن میں ابوسعید خدری، عمرو بن حزم، عمرو بن العاص اور ام سلمہ (صحیح مسلم) شامل ہیں۔
وانظر تمام شواهده في "مسند أحمد" عند حديث عبد الله بن عمرو بن العاص 11/ (6499).
📝 نوٹ: اس کے تمام شواہد مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث (11/6499) کے تحت دیکھے جا سکتے ہیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2684 in Urdu