🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. كتاب النكاح
کتابُ النکاح
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2705
أخبرنا أبو عمرو عثمانُ بنُ أحمد البزاز (1) ببغداد، حدثنا الحسين بن أبي مَعْشَر، حدثنا وكيع بن الجرَّاح، حدثني خارجةُ بن مُصعب، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسار، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسولُ الله ﷺ:"ما مِنْ صباحٍ إلّا ومُنادِيان ينادِيان: ويلٌ للرِّجالِ من النساء، وويلٌ للنساءِ من الرِّجال" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2672 - خارجة واه
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر صبح دو منادی یہ نداء دیتے ہیں: مردوں کے لیے عورتوں کی وجہ سے ہلاکت ہے۔ اور عورتوں کے لیے مردوں کی وجہ سے ہلاکت ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2705]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2705 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا وقعت نسبة أبي عمرو عثمان بن أحمد هنا بزازًا، ولا يُعرف ذلك في نسبته، ولم يَرد في غير هذا الموضع، وإنما المعروف في نسبته ابن السّمّاك، والدّقّاق، وكان يقال له: الباز الأشهب، فلعلَّ البزاز هنا تحريف عن الباز، والله أعلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں ابو عمرو عثمان بن احمد کی نسبت "بزاز" لکھی گئی ہے، جبکہ ان کی پہچان میں یہ نسبت معروف نہیں ہے اور نہ ہی کسی اور جگہ آئی ہے۔ ان کی مشہور نسبتیں "ابن السماک" اور "الدقاق" ہیں۔ انہیں "الباز الاشہب" (سفید باز) بھی کہا جاتا تھا، لہٰذا قرینِ قیاس ہے کہ لفظ "الباز" تحریف ہو کر "البزاز" لکھ دیا گیا ہے، واللہ اعلم۔
(2) إسناده ضعيف جدًّا، خارجة بن مصعب واهٍ كما قال الذهبي، وحسين بن أبي معشر - وهو حسين بن محمد بن أبي معشر - ضعيف، لكنه متابَع.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "شدید ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی "خارجہ بن مصعب" نہایت کمزور (واہی) ہے جیسا کہ امام ذہبی نے کہا، اور "حسین بن ابی معشر" (حسین بن محمد) بھی ضعیف ہے، البتہ حسین کی متابعت (تائید) موجود ہے۔
فقد أخرجه ابن ماجه (3999) عن أبي بكر بن أبي شيبة وعلي بن محمد، كلاهما عن وكيع، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ نے (3999) میں ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں وکیع سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وسيأتي برقم (8893) من طريق يحيى بن يحيى عن خارجة.
📝 نوٹ: یہ روایت آگے نمبر (8893) پر یحییٰ بن یحییٰ عن خارجہ کے طریق سے دوبارہ آئے گی۔