المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. لا صرورة فى الإسلام .
اسلام میں رہبانیت نہیں ہے
حدیث نمبر: 2707
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا محمد بن علي بن عفّان العامري، حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا سفيان، عن المغيرة بن النعمان، عن سعيد بن جُبير، قال: قال لي عبد الله بن عباس: تزوجتَ؟ قلتُ: لا، قال: تَزَوَّجْ؛ فإنَّ خيرَ هذه الأُمّة ﷺ أكثرُها نساءً، ومهما في صُلبِك مُستودَعٌ، فإنه سيَخرُج قبلَ يوم القيامة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تابع عطاءُ بن السائب المغيرةَ بن النعمان في روايته:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2674 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تابع عطاءُ بن السائب المغيرةَ بن النعمان في روايته:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2674 - صحيح
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: کیا تو نے شادی کر لی؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: شادی کر لو۔ کیونکہ امتِ محمدیہ (اس امت سے مراد، اس امت کا زمانہ ہے) میں جو سب سے افضل و اعلیٰ ہے (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کی شادیاں سب سے زیادہ ہیں اور ہو سکتا ہے کہ تیری پشت میں بھی کوئی امانت موجود ہو کہ وہ قیامت سے پہلے اس کو نکال لے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کو سعید بن جبیر سے روایت کرنے میں عطاء بن سائب نے مغیرہ بن نعمان کی متابعت کی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2707]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2707 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. سفيان: هو الثَّوري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📌 اہم نکتہ: یہاں "سفیان" سے مراد سفیان ثوری ہیں۔
وأخرجه البخاري (5069) من طريق طلحة بن مُصرِّف الياميّ، عن سعيد بن جبير، به. دون قوله: ومهما في صُلبك مستودع.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے (5069) میں طلحہ بن مصرف الیامی عن سعید بن جبیر کے طریق سے روایت کیا ہے، لیکن بخاری کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں: "اور جو کچھ تمہاری پشت (صلب) میں امانت رکھا گیا ہے"۔
وقول ابن عباس في آخره: ومهما في صلبك مستودع، إلى آخره: أخرجه سعيد بن منصور في "سننه" (495)، وفي قسم التفسير أيضًا من "سننه" (893)، والطبري في "تفسيره" 7/ 288 و 289 من طريق أبي بشر جعفر بن إياس، عن سعيد بن جبير، به. وانظر ما بعده.
📖 حوالہ / مصدر: حضرت ابن عباس کا آخری قول ("اور جو کچھ تمہاری پشت میں ہے...") اسے سعید بن منصور نے اپنی "سنن" (495 اور قسم التفسیر: 893) میں اور امام طبری نے "تفسیر" (7/288) میں ابو بشر جعفر بن ایاس عن سعید بن جبیر کے طریق سے روایت کیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے اگلی روایت دیکھیں۔