🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. لا طلاق ولا عتاق فى إغلاق
جبر کی حالت میں نہ طلاق واقع ہوتی ہے نہ غلام آزاد ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2839
أخبرني أحمد بن محمد بن سلمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا نُعيم بن حماد، حدثنا أبو صفوان عبد الله بن سعيد الأُموي، عن ثَوْر بن يزيد، عن صفيّة بنت شَيْبة، عن عائشة، عن النبي ﷺ قال:"لا طَلاقَ ولا عَتاقَ في إغلاقٍ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2803 - نعيم صاحب مناكير
ابوصفوان عبداللہ بن سعید الاموی نے ثور بن یزید کے واسطے سے صفیہ بنت شیبہ کے حوالے سے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (حالت) اکراہ میں (زبردستی) طلاق اور عتاق (نافذ) نہیں ہوتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2839]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2839 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف، نُعيم بن حماد صاحب مناكير كما قال الذهبي في "تلخيصه"، قلنا: والظاهر أنه وهم هنا في إسناد الحديث بإسقاط ذكر محمد بن عبيد بن أبي صالح بين ثور وصفية، فلا بد من ذكره في الإسناد، إذ هو صاحب القصة الذي سمع الخبر من صفية كما توضحه رواية محمد بن إسحاق السابقة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس حدیث کی سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: نعیم بن حماد منکر روایات والے ہیں جیسا کہ ذہبی نے "التلخیص" میں کہا ہے۔ ہمارا کہنا ہے کہ بظاہر انہیں یہاں سند میں وہم ہوا ہے کہ انہوں نے ثور اور صفیہ کے درمیان سے "محمد بن عبید بن ابی صالح" کا ذکر گرا دیا ہے، حالانکہ سند میں ان کا ذکر ضروری ہے کیونکہ وہی اس قصے کے مرکزی کردار ہیں جنہوں نے صفیہ سے یہ خبر سنی، جیسا کہ محمد بن اسحاق کی سابقہ روایت اس کی وضاحت کرتی ہے۔