🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. مسألة اللعان وحكاية هلال بن أمية
لعان کا مسئلہ اور ہلال بن امیہ کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2850
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا عبد العزيز بن محمد، عن يزيد بن الهَادِ، عن عبد الله بن يونس، أنه سمع المقبُري يحدِّث قال: حدثني أبو هريرة، أنه سمع النبي ﷺ يقول لما نزلت آية المُلَاعنة، قال النبي ﷺ:"أيُّما امرأةٍ أدخَلَت على قومٍ مَن ليس منهم، فليست مِن الله في شيءٍ، ولن يُدخلَها اللهُ جنتَه، وأيُّما رجلٍ جَحَد ولدَه وهو ينظُر إليه، احتجَبَ اللهُ منه وفَضَحَه على رؤوس الخلائق مِن الأولين والآخِرين" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2814 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب لعان والی آیت نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت ایسی قوم کے پاس جائے جن کی برادری سے یہ نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وہ کبھی رورعایت کی حقدار نہیں ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ اس کو اپنی جنت میں داخل کرے گا اور جو آدمی اپنے بچے کا انکار کرے اور وہ اس کی طرف دیکھ رہا ہو، اللہ تعالیٰ اس کو اپنا دیدار نہیں کرائے گا اور وہ اوّل و آخر تمام لوگوں کے سامنے اس کو رسوا کرے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2850]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2850 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لجهالة عبد الله بن يونس، فلا يُعرف إلّا في هذا الحديث كما قال ابن أبي حاتم والدارقطني وابن القطان. يزيد بن الهاد: هو ابن عبد الله بن أسامة بن الهاد، والمقبري: هو سعيد بن أبي سعيد كيسان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس حدیث کی سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ "عبد اللہ بن یونس" کی جہالت ہے، وہ صرف اسی حدیث میں پہچانے جاتے ہیں جیسا کہ ابن ابی حاتم، دارقطنی اور ابن القطان نے کہا ہے۔ (سند میں) یزید بن الہاد سے مراد "ابن عبد اللہ بن اسامہ بن الہاد" ہیں، اور المقبری سے مراد "سعید بن ابی سعید کیسان" ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2264)، وابن حبان (4108) من طريق عمرو بن الحارث والنسائي (5645) من طريق الليث بن سعد، كلاهما عن ابن الهاد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (2264) اور ابن حبان (4108) نے عمرو بن الحارث کے طریق سے؛ اور نسائی (5645) نے لیث بن سعد کے طریق سے تخریج کیا ہے۔ یہ دونوں ابن الہاد سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (2743) من طريق موسى بن عبيدة، عن يحيى بن حرب، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة. وموسى بن عُبيدة ضعيف، ويحيى بن حرب مجهول.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2743) نے موسیٰ بن عبیدہ کے طریق سے، انہوں نے یحییٰ بن حرب سے، انہوں نے سعید المقبری سے، اور انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ موسیٰ بن عبیدہ "ضعیف" ہیں، اور یحییٰ بن حرب "مجہول" ہیں۔
ويشهد لشطره الأول مرسل القاسم بن محمد بن أبي بكر الصديق عند ابن إسحاق كما في "سيرة ابن هشام" 1/ 406، بلفظ: "اشتد غضبُ الله على امرأة أدخلت على قوم من ليس منهم، فأكل حرائبهم واطّلع على عوراتهم"، ورجاله لا بأس بهم. والحرائب: جمع حَرِيبة، وهو مالُ الرجل الذي يعيشُ به.
🧩 متابعات و شواہد: اس حدیث کے پہلے حصے کی تائید (شاہد) القاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق کا "مرسل" کرتا ہے جو ابن اسحاق کے ہاں "سیرت ابن ہشام" (1/ 406) میں ان الفاظ کے ساتھ ہے: "اللہ کا غضب شدید ہوا اس عورت پر جس نے کسی قوم میں ایسے شخص کو داخل کیا جو ان میں سے نہیں تھا، پس اس نے ان کا مال (حرائب) کھایا اور ان کی پوشیدہ باتوں (عورات) پر مطلع ہوا۔" اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہم)۔ "الحرائب" حریبہ کی جمع ہے، اور اس سے مراد آدمی کا وہ مال ہے جس پر وہ گزر بسر کرتا ہے۔