🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. من سره أن يقرأ القرآن غضا كما أنزل ، فليقرأه على ابن أم عبد
جو شخص قرآن کو اسی طرح تازہ پڑھنا چاہے جیسے وہ نازل ہوا تو وہ اسے ابنِ امِ عبد کے طریقے پر پڑھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2930
أخبَرَناه أبو بكر بن أبي دارمٍ الحافظ بالكوفة، حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، حدثنا القاسم بن بِشْر بن معروف، حدثنا مُصعَب بن المِقْدام الخَثعَمي، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عَلقَمة، عن عمر، عن النبي ﷺ قال:"من أحبَّ أن يَقرأَ القرآنَ غَضًّا كما أُنزِلَ، فليَقرَأْ على قراءة ابن أمِّ عبدٍ" (2) . حديث عَلقَمة عن عمر صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وأتوهَّمُهما لم يَصِحَّ عندهما سماعُ علقمة بن قيس من عمر (1) ، والله أعلم. وله شاهد مفسَّر من حديث عمَّار بن ياسر:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص بالکل اس انداز میں قرآن پڑھنا چاہتا ہے جس طرح نازل ہوا ہے، اس کو چاہیے کہ وہ ابن ام معبد رضی اللہ عنہما کی قرأت کے مطابق قرآن پاک پڑھے۔ ٭٭ علقمہ رضی اللہ عنہ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے مقرر کردہ معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا اور میرا یہ خیال ہے کہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے نزدیک علقمہ بن قیس رضی اللہ عنہ کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔ ٭٭ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2930]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2930 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، ابن أبي دارم - وإن كان متكلَّمًا فيه - قد توبع، فسيأتي من غير طريقه عن ¤ ¤ مصعب بن المقدام عند المصنف برقم (5476)، وهو قطعة من الحديث السابق، وانظر تخريجه فيه.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث "صحیح" ہے۔ ابن ابی دارم پر اگرچہ کلام کیا گیا ہے لیکن ان کی "متابعت" موجود ہے۔ چنانچہ یہ مصعب بن المقدام سے دوسرے طریق سے مصنف کے ہاں نمبر (5476) پر آئے گی۔ یہ سابقہ حدیث کا ایک ٹکڑا ہے، وہاں اس کی تخریج دیکھیں۔
(1) قد ثبت - كما تقدم - أنَّ علقمة بن قيس النخعي لم يسمع هذا الحديث من عمر، وقد نقل العلائي في "جامع التحصيل": أنَّ أحمد بن حنبل سُئل: هل سمع علقمة من عمر؟ فقال: ينكرون ذلك، قيل: من ينكره؟ قال: الكوفيون أصحابه.
🔍 فنی نکتہ (سماع): جیسا کہ گزر چکا، یہ ثابت ہے کہ علقمہ بن قیس النخعی نے یہ حدیث عمر سے نہیں سنی۔ علائی نے "جامع التحصیل" میں نقل کیا ہے کہ احمد بن حنبل سے پوچھا گیا: کیا علقمہ نے عمر سے سنا ہے؟ فرمایا: "وہ (محدثین) اس کا انکار کرتے ہیں۔" پوچھا گیا: کون انکار کرتا ہے؟ فرمایا: "کوفی، جو ان کے ساتھی ہیں۔"