المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
17. شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا ) الْآيَةَ
آیت «اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو» کے نزول کا سبب
حدیث نمبر: 2960
أخبرني محمد بن يزيد العَدْل، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن يحيى القُطَعي (3) ، حدثنا يحيى بن راشد، حدثنا خالد الحذَّاء، عن عبد الله بن عُبَيد ابن عُمَير، عن أبيه قال: قلت لعائشة: يا أمَّ المؤمنين، كيف كان رسول الله ﷺ يقرأُ هذا الحرفَ: ﴿وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا﴾ [المؤمنون: 60] ؟ قالت: أيُّهما أحبُّ إليك؟ قلت: أحدُهما أحبُّ إليَّ من حُمْر النَّعَم، قالت: أيُّهما؟ قلت: (الذينَ يَأْتُونَ ما أَتَوْا) ، قالت: هكذا سمعتُ رسول الله ﷺ يقرؤُها (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2923 - يحيى بن راشد ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2923 - يحيى بن راشد ضعيف
عبداللہ بن عبید بن عمیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی: اے ام المومنین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حرف ﴿وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا﴾ [سورة المؤمنون: 60] کی تلاوت کیسے فرماتے تھے؟ انہوں نے پوچھا: تمہیں ان میں سے کون سی قراءت زیادہ پسند ہے؟ میں نے عرض کی: ان میں سے ایک مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہے، انہوں نے پوچھا: وہ کون سی ہے؟ میں نے عرض کی: «الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا» (وہ لوگ جو اس حال میں آتے ہیں جو وہ آئے)، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح تلاوت فرماتے ہوئے سنا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2960]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2960]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف يحيي بن راشد.» [ترقيم الرساله 2960] [ترقيم الشركة 2941] [ترقيم العلميه 2923]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2960 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: القطيعي، وقد جاء على الصواب في "إتحاف المهرة" (21952).
📝 تصحیحِ متن: قلمی نسخوں میں (نام) غلطی سے "القطیعی" لکھا گیا، "اتحاف المہرہ" (21952) میں یہ درست آیا ہے۔
(1) إسناده ضعيف لضعف يحيي بن راشد - وهو المازني البرّاء - وبه ضعَّفه الذهبي في "تلخيصه". وسيأتي مكررًا برقم (3006).
⚖️ درجۂ اسناد: یحییٰ بن راشد (المازنی البراء) کے ضعف کی وجہ سے یہ سند "ضعیف" ہے۔ ذہبی نے "تلخیص" میں انہیں کی وجہ سے تضعیف کی ہے۔ (یہ نمبر 3006 پر مکرر آئے گا)۔
وأخرجه أحمد 41/ (24641) و 42/ (25115) و (25116) من طريق إسماعيل المكي، عن أبي خلف الجمحي: أنه دخل مع عبيد بن عمير على عائشة فسألها عن هذا الحرف. وإسناده ضعيف أيضًا.
📖 حوالہ / تخریج: اسے احمد (41/ 24641، 42/ 25115، 25116) نے اسماعیل المکی عن ابی خلف الجمحی کے طریق سے روایت کیا ہے کہ وہ عبید بن عمیر کے ساتھ حضرت عائشہ کے پاس گئے اور اس حرف کے بارے میں پوچھا۔ یہ سند بھی "ضعیف" ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2960 in Urdu