🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا ) الْآيَةَ
آیت «اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو» کے نزول کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2979
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا أحمد بن بِشْر المَرثَدي، حدثنا عمرو بن علي، حدثني محبوب بن الحسن، عن خالد الحذَّاء، عن محمد بن سِيرِين، عن أنس: أنَّ النبي ﷺ قرأ: ﴿أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى﴾ [الأنفال: 67] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2942 - صحيح
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى﴾ [سورة الأنفال: 67] کہ اس کے پاس قیدی ہوں (لفظ «أَسْرَى» کے ساتھ) تلاوت فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2979]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه لين من أجل محبوب بن الحسن: واسمه محمد بن الحسن بن هلال، ومحبوب لقبُه، وهو به أشهَر.» [ترقيم الرساله 2979] [ترقيم الشركة 2960] [ترقيم العلميه 2942]

الحكم على الحديث: إسناده فيه لين من أجل محبوب بن الحسن: واسمه محمد بن الحسن بن هلال

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2979 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده فيه لين من أجل محبوب بن الحسن: واسمه محمد بن الحسن بن هلال، ومحبوب لقبُه، وهو به أشهَر.
⚖️ درجۂ اسناد: اس سند میں محبوب بن الحسن کی وجہ سے "لین" (کمزوری) ہے۔ ان کا نام محمد بن الحسن بن ہلال ہے، محبوب لقب ہے اور وہ اسی سے مشہور ہیں۔
ولم يرد في هذا الحديث ضبط القراءة في هذا الحرف، وجمهور القَرأة على قراءة (يكون) بالياء في أوله، وقرأ أبو عمرو وحده من السبعة (تكون) بالتاء المثناة من فوق. انظر "السبعة" ص 309.
📚 تحقیقِ قراءت: اس حدیث میں اس حرف کی قراءت کا ضبط مذکور نہیں ہے۔ جمہور قراء (يكون) یاء کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ قراء سبعہ میں سے صرف ابوعمرو نے (تكون) تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ (السبعۃ ص 309)۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2979 in Urdu