🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. شأن نزول ( يا أيها المدثر )
سورۂ مدثر کے نزول کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3034
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الجَرَّاحي بمَرْو، حدثنا يحيى بن ساسَوَيهِ الذُّهْلي، حدثنا سُوَيد بن نَصْر، حدثنا حاتم بن إسماعيل وخارجة بن مُصعَب، عن عبد الرحمن بن حَرمَلة، عن سعيد بن المسيّب عن أبي هريرة قال: كان رسول الله ﷺ يقرأ: فَسَوَّاكَ فَعَدَّلَكَ) (الانفطار: 7) ، مُثَقَّل (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شهر ربيع سنة تسع وتسعين وثلاث مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2997 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سورۂ انفطار کی آیت نمبر 7) فَسَوَّاکَ فَعَدَلَک مثقل پڑھی۔ (نوٹ: حمزہ، عاصم اور کسائی نے فعدلک کے دال پر جزم پڑھی ہے اور باقی قراء نے اس پر تشدید پڑھی ہے۔ شفیق) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3034]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3034 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من جهة حاتم بن إسماعيل، وأما خارجة بن مصعب فمتَّفق على ضعفه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حاتم بن اسماعیل کی وجہ سے ’حسن‘ ہے، لیکن جہاں تک خارجہ بن مصعب کا تعلق ہے تو ان کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔
وقرأ (فعَدَّلَك) بتشديد الدال من السبعة ابنُ كثير ونافع وأبو عمرو وابن عامر، وقرأ عاصم وحمزة والكسائي (فعَدَلَك) بتخفيفها. انظر "السبعة" لابن مجاهد ص 674.
🔍 فنی نکتہ / علّت: سات قراء میں سے ابن کثیر، نافع، ابو عمرو اور ابن عامر نے (فعَدَّلَك) دال کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے، اور عاصم، حمزہ اور کسائی نے (فعَدَلَك) اس کی تخفیف (بغیر تشدید) کے ساتھ پڑھا ہے۔ (دیکھیے: ابن مجاہد کی "السبعہ" ص 674)۔