🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. قصة قتل يحيى بن زكريا عليهما السلام
سیدنا یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کی شہادت کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3183
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد ابن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ﴾ [آل عمران: 21] ، قال: بَعَثَ عيسى ابنُ مريم يحيى بنَ زكريّا (2) في اثني عشر رجلًا من الحَوَاريِّين يعلِّمون الناس، فكان ينهاهم عن نِكاح ابنة الأخ، وكان ملكٌ له ابنةُ أخٍ تعجبُه، فأرادها، وجعل يَقْضي لها كلَّ يوم حاجةً، فقالت لها أمُّها: إذا سألكِ عن حاجَتِك فقولي: حاجَتي أن تقتلَ يحيى بنَ زكريا، فقال لها الملك: ما حاجتُك؟ فقالت: حاجَتي أن تقتلَ يحيى بنَ زكريا، فقال: سَلِي غيرَ هذا، فقالت: لا أسألُ غيرَ هذا، فلما أَتَى أَمَرَ به فذُبِحَ فِي طَسْتٍ فنَدَرَت قَطْرةٌ من دمه، فلم تَزَلْ تَغْلي حتى بَعَثَ اللهُ بُخْتَنصَّر، فدلَّت عجوزٌ عليه، فأُلقيَ في نفسه أن لا يزالَ القتلُ حتى يَسكُنَ هذا الدمُ، فقتل في يومٍ واحد من ضربٍ واحدٍ وسِنٍّ واحدٍ سبعين ألفًا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد غريب الإسناد والمتن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3146 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ (آل عمران: 21) اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں ۔ کے متعلق فرماتے ہیں: عیسیٰ علیہ السلام کو بارہ حواریوں میں بھیجا گیا تاکہ وہ لوگوں کو (اللہ تعالیٰ کے دین کی) تعلیم دیں۔ چانچہ آپ لوگوں کو بھتیجی کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کیا کرتے تھے۔ ان میں ایک بادشاہ تھا جو اپنی بھتیجی کو پسند کرتا تھا (اور اس سے شادی کرنے کا) ارادہ رکھتا تھا وہ روزانہ اس کی ایک حاجت پوری کیا کرتا تھا۔ اس لڑکی کی ماں نے اس سے کہا: اب جب وہ تجھ سے حاجت پوچھے تو کہنا: (میری حاجت یہ ہے کہ) تو یحیی بن زکریا علیہما السلام کو قتل کر دے۔ بادشاہ نے کہا: تیری کیا حاجت ہے؟ اس نے کہا: میری حاجت یہ ہے کہ تو یحیی بن زکریا علیہما السلام کو قتل کر دے۔ اس نے کہا: اس کے علاوہ کوئی اور سوال کرو۔ اس لڑکی نے کہا: میری حاجت اس کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ چنانچہ جب (سیدنا یحیی) آئے تو بادشاہ نے آپ کے قتل کا حکم دے دیا تو سیدنا یحیی علیہ السلام کو ایک بڑے تھال میں ڈال کر ذبح کر دیا گیا اور آپ کے خون کا ایک قطرہ اس میں سے نیچے گر گیا جو مسلسل بے قرار رہا اور اُبلتا رہا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کو بھیجا اور ایک بڑھیا نے بخت نصر کو یہ واقعہ بتا دیا، جس پر اس نے اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں (اس کی نسل کا) اس قدر قتل کروں گا کہ خون کے اس قطرہ کو سکون مل جائے۔ چنانچہ اس نے ایک دن میں ایک ہی حملے میں ایک ہی خاندان کے ستر ہزار آدمیوں کو تہہ تیغ کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3183]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3183 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) قوله: "يحيى بن زكريا" سقط من (ز) و (ع) و (ب)، وأثبتناه من هامش (ص) مصحَّحًا عليه ومن مصادر التخريج ومما سيأتي برقم (4196).
📝 نوٹ / توضیح: ان کا قول: "يحيى بن زكريا" نسخہ (ز)، (ع) اور (ب) سے گر گیا تھا، اور ہم نے اسے حاشیہ (ص) سے (جس پر تصحیح کی گئی ہے) اور تخریج کے مصادر سے اور اس سے ثابت کیا ہے جو آگے نمبر (4196) پر آئے گا۔
(3) رجاله لا بأس بهم، ومتنه منكر، فقد قال الطبري في "تاريخه" 1/ 589: وهذا القول الذي رُويَ عمن ذكرتُ في هذه الأخبار التي رويت وعمن لم يذكر في هذا الكتاب، من أن بختنصَّر هو الذي غزا بني إسرائيل عند قتلهم يحيى بنَ زكريا، عند أهل السير والأخبار والعلم بأمور الماضين في الجاهلية وعند غيرهم من أهل المِلَل غلطٌ، وذلك أنهم بأجمعهم مجمعون على أنَّ بختنصر إنما غزا بني إسرائيل عند قتلهم نبيَّهم شعيا في عهد إرميا بن حلقيا، وبين عهد إرميا وتخريب بختنصر بيت المقدس إلى مولد يحيى بن زكريا أربع مئة سنة وإحدى وستون سنة في قول اليهود والنصارى، ويذكرون أن ذلك عندهم في كتبهم وأسفارهم مبيَّن.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہم) لیکن اس کا متن ’منکر‘ ہے۔ طبری نے اپنی "تاریخ" 1/ 589 میں کہا: اور یہ قول کہ "بخت نصر ہی وہ شخص تھا جس نے بنی اسرائیل پر یحییٰ بن زکریا کے قتل کے وقت حملہ کیا تھا"، اہل سیر، اخبار، علمائے جاہلیت اور دیگر اہلِ ملل کے نزدیک غلط ہے۔ کیونکہ ان سب کا اس بات پر اجماع ہے کہ بخت نصر نے بنی اسرائیل پر حملہ اس وقت کیا تھا جب انہوں نے اپنے نبی شعیا کو ارمیا بن حلقیا کے زمانے میں قتل کیا تھا؛ جبکہ ارمیا کے زمانے اور بخت نصر کی بیت المقدس کی تخریب سے لے کر یحییٰ بن زکریا کی پیدائش تک یہودیوں اور عیسائیوں کے قول کے مطابق چار سو اکسٹھ (461) سال کا فاصلہ ہے، اور وہ ذکر کرتے ہیں کہ یہ ان کی کتابوں اور صحیفوں میں واضح ہے۔
وقال الحافظ ابن كثير في "البداية والنهاية" 2/ 373: تقدَّم من كلام الحافظ ابن عساكر ما يدلّ على أن هذا دم يحيى بن زكريا، وهذا لا يصح، لأن يحيى بن زكريا بعد بختنصّر بمدة، والظاهر أنَّ هذا دم نبي متقدم، أو دم لبعض الصالحين، أو لمن شاء الله ممن اللهُ أعلم به.
🔍 فنی نکتہ / علّت: حافظ ابن کثیر نے "البداية والنهاية" 2/ 373 میں فرمایا: حافظ ابن عساکر کے کلام سے جو بات گزری ہے وہ یہ بتاتی ہے کہ یہ خون یحییٰ بن زکریا کا تھا، اور یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ یحییٰ بن زکریا بخت نصر کے کافی عرصے بعد آئے ہیں۔ ظاہر یہی ہے کہ یہ کسی پچھلے نبی کا خون تھا، یا کسی صالح شخص کا، یا جس کا اللہ نے چاہا اور جسے اللہ بہتر جانتا ہے۔
قلنا: وأخرج حديث أبي معاوية عن الأعمش: ابنُ المنذر في "تفسيره" (318) عن زكريا بن داود، عن إسحاق -وهو ابن إبراهيم ابن راهويه- بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: ہم کہتے ہیں: اور ابو معاویہ کی حدیث کو اعمش سے ابن المنذر نے اپنی "تفسیر" (318) میں زکریا بن داود سے، انہوں نے اسحاق (ابن ابراہیم ابن راہویہ) سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي الدنيا في "من عاش بعد الموت" (44)، والطبري في "تفسيره" 5/ 43 و "تاريخه" 1/ 586، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 64/ 207 من طريقين عن أبي معاوية، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی الدنیا نے "من عاش بعد الموت" (44) میں، طبری نے اپنی "تفسیر" 5/ 43 اور "تاریخ" 1/ 586 میں، اور ابن عساکر نے "تاريخ دمشق" 64/ 207 میں ابو معاویہ سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وسيأتي برقم (4196) من طريق سلم بن جنادة عن أبي معاوية.
🧾 تفصیلِ روایت: اور یہ آگے نمبر (4196) پر سلم بن جنادہ عن ابی معاویہ کے طریق سے آئے گا۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 15/ 31 - 32 و تاريخه 1/ 586 - 588 من طريق السدي، عن أبي مالك الغفاري وأبي صالح باذام، عن ابن عبَّاس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے اپنی "تفسیر" 15/ 31 - 32 اور "تاریخ" 1/ 586 - 588 میں سدی کے طریق سے، انہوں نے ابو مالک الغفاری اور ابو صالح باذام سے، انہوں نے ابن عباس سے تخریج کیا ہے۔
وروي مختصرًا عن سعيد بن المسيب عند أبي عبيد في "الخطب والمواعظ" (99)، والطبري في "التفسير" 15/ 30، وابن عساكر 64/ 216، وصحح إسناده إلى سعيد الحافظُ ابنُ كثير في "البداية"، قال: قدم بختنصر دمشق فإذا هو بدم يحيى بن زكريا يغلي فسأل عنه فأخبروه، فقتل على دمه سبعين ألفًا، فسكن الدم.
📖 حوالہ / مصدر: یہ مختصراً سعید بن المسیب سے ابو عبید کی "الخطب والمواعظ" (99) میں، طبری کی "التفسیر" 15/ 30 میں، اور ابن عساکر کی 64/ 216 میں مروی ہے، اور حافظ ابن کثیر نے "البدایہ" میں سعید تک اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے، انہوں نے کہا: بخت نصر دمشق آیا تو اس نے یحییٰ بن زکریا کے خون کو جوش مارتے دیکھا، اس نے اس بارے میں پوچھا تو اسے بتایا گیا، پھر اس نے اس خون پر ستر ہزار (70,000) لوگوں کو قتل کیا تب وہ خون ٹھنڈا ہوا۔