المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
73. خطبة أبى بكر الصديق رضى الله عنه عند وفاة النبى صلى الله عليه وسلم
نبی ﷺ کی وفات کے وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خطبہ
حدیث نمبر: 3200
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهْري قال: أخبرني أبو سَلَمة بن عبد الرحمن قال: كان ابن عبَّاس يحدِّث: أنَّ أبا بكر الصِّدِّيق دخل المسجدَ وعمرُ بنُ الخطَّاب يحدِّث الناس، فأَتى البيتَ الذي تُوفِّي فيه رسولُ الله ﷺ، فكَشَفَ عن وجهه بُرْدَ حِبَرةٍ وكان مُسجًّى به، فنظر إليه فأكَبَّ عليه ليقبِّلَ وجهَه، وقال: والله لا يَجمَعُ اللهُ عليك مَوتَتينِ بعد موتتِك التي لا تموتُ بعدَها. ثم خرج إلى المسجد وعمرُ يُكلِّم الناسَ، فقال أبو بكر: اجلِسْ يا عمر، فأَبى، فكلَّمه مرَّتين أو ثلاثًا، فأَبى، فقام فتَشهَّد، فلما قَضَى تشهُّدَه قال: أَمَّا بعدُ، فمن كان يَعبُدُ محمدًا، فإنَّ محمدًا قد مات، ومَن كان يَعبُد اللهَ، فإنَّ الله حيٌّ لا يموت، ثم تلا ﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ﴾ [الأنبياء: 34] ، ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ﴾ تلا إلى ﴿الشَّاكِرِينَ﴾ [آل عمران: 144] ، فما هو إِلَّا أَنْ تَلَاها فأيقَنَ الناسُ بموت رسول الله ﷺ، حتى قال قائل: لم يَعلَمِ الناسُ أنَّ هذه الآيةَ أُنزِلت حتى تَلَاها أبو بكر. قال الزُّهْري: فأخبرني سعيد بن المسيّب: أنَّ عمر بن الخطَّاب قال: لمّا تلاها أبو بكر: عَقِرتُ حتى خَرَرتُ إلى الأرض، وأيقَنتُ أنَّ رسول الله ﷺ قد مات (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3162 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3162 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کیا کرتے تھے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مسجد (نبوی) میں آئے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں سے (حضور کی وفات کے متعلق) گفتگو کر رہے تھے، آپ اس مکان میں آئے جہاں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ اطہر کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا۔ آپ نے حضؤر صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کپڑا ہٹایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور چہرے کا بوسہ لینے کے لیے جھکے اور بولے: خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا، اس موت کے بعد آپ کو کبھی موت نہیں آئے گی۔ پھر آپ مسجد میں آ گئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ابھی تک لوگوں سے محوکلام تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمر! بیٹھ جاؤ لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دو تین مرتبہ بیٹھنے کو کہا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلسل انکار کرتے رہے۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خود کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی پھر فرمایا: امام بعد! جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کیا کرتا تھا تو بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو بے شک اللہ تعالیٰ زندہ ہے جس کو موت نہیں ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: (وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ) (الانبیاء: 34) ” اور ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کے لیے دنیا میں ہمیشگی نہ بنائی “۔ (، م) (وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ) (آل عمران: 144) ” اور محمد تو ایک رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول ہو چکے “۔ (، م) ” للشاکرین “ تک تلاوت کی۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ آیات پڑھیں تو لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا یقین ہو گیا یہاں تک کہ لوگوں کو اس آیت کے نزول کا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اس دن کی تلاوت سے پتہ چلا۔ امام زہری رحمۃ اللہ علیہم کہتے ہیں: مجھے سعید بن المسیب رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان بتایا کہ: جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان آیات کی تلاوت کی تو میرے جسم میں لرزہ طاری ہو گیا اور میں زمین پر گر پڑا اور مجھے یقین ہو گیا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3200]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3200 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. هو بطوله في "مصنف عبد الرزاق" (9755).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اور یہ طویل روایت "مصنف عبدالرزاق" (9755) میں موجود ہے۔
وأخرج القطعة الأولى منه أحمد 5/ (3090) عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اور اس کا پہلا حصہ احمد نے 5/ (3090) میں عبدالرزاق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرج القطعتين الثانية والثالثة منه البخاري (1242) وابن حبان (6620) من طريق عبد الله بن المبارك، عن معمر، به. وقرن بمعمر يونسَ بنَ يزيد، واقتصر البخاري على القطعة الثانية منه.
📖 حوالہ / مصدر: اور اس کا دوسرا اور تیسرا حصہ بخاری نے (1242) اور ابن حبان نے (6620) میں عبداللہ بن مبارک کے طریق سے، انہوں نے معمر سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ اور (راوی نے) معمر کے ساتھ یونس بن یزید کو بھی ملایا ہے، اور بخاری نے صرف اس کے دوسرے حصے پر اکتفا کیا ہے۔
وأخرجهما أيضًا البخاري (4454) من طريق عقيل بن خالد، عن ابن شهاب الزهري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور ان دونوں (حصوں) کو بخاری نے (4454) میں عقیل بن خالد کے طریق سے، انہوں نے ابن شہاب زہری سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
والبُرْد الحِبَرَة: ثوب يمانٍ من قطن أو كتّان مخطَّط ملوَّن.
📝 نوٹ / توضیح: "البُرْد الحِبَرَة": یمنی چادر جو روئی یا کتان کی ہوتی ہے، دھاری دار اور رنگین۔
ومسجًّى به، أي: مغطَّى به.
📝 نوٹ / توضیح: "مسجًّى به": یعنی اس سے ڈھانپا ہوا۔
وقول عمر: "عَقِرتُ" أي: خارت قواي فلم تحملني قدماي من شدَّة الصَّدمة.
📝 نوٹ / توضیح: عمر رضی اللہ عنہ کا قول "عَقِرتُ": یعنی میری ٹانگوں نے جواب دے دیا (قوت ختم ہو گئی) اور صدمے کی شدت سے میرے پاؤں مجھے اٹھا نہ سکے۔