🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
95. أحلت أشياء وحرمت أشياء وما سكت عنه فهو عفو
کچھ چیزیں حلال کی گئیں، کچھ حرام کی گئیں، اور جن پر خاموشی اختیار کی گئی وہ معاف ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3275
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا عبد الله بن الزُّبير الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو بن دينار قال: قلت لجابر بن زيد (1) : إنهم يَزعُمون أنَّ رسول الله ﷺ نهى عن لحوم الحُمُر الأهلية زمنَ خيبر، قال: قد كان يقول ذلك الحَكَمُ بن عمرو عن رسول الله ﷺ، ولكن أَبَي ذلك البحرُ -يعني ابنَ عبَّاس- وقرأ ﴿قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا﴾ الآيةَ [الأنعام: 145] . وقد كان أهلُ الجاهلية يتركون أشياءَ تقذُّرًا، فأنزل الله ﷿ في كتابه وبيَّن حلالَه وحرامَه، فما أَحلَّ فهو حلال، وما حرَّم فهو حرام، وما سَكَتَ عنه فهو عَفْوٌ؛ ثم تلا هذه الآية: ﴿قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ﴾ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3236 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ قَالَ: قَدْ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ أَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَقَرَأَ {قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا} الْآيَةُ. وَقَدْ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ وَبَيَّنَ حَلَالَهُ وَحَرَامَهُ، فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلَالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ، فَهُوَ عَفْوٌ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ} [الأنعام: 145] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ»
سیدنا عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ان کا یہ خیال ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا، یہی بات سیدنا حکم بن عمرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کیا کرتے تھے، لیکن سیدنا (عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا ہے انہوں نے آیت: قُلْ لَّآ اجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا (الانعام: 145) تم فرماؤ میں نہیں پاتا اس میں جو میری طرف وحی ہوئی کسی کھانے والے پر کوئی کھانا حرام ۔ پڑھی (اور فرمایا): اہلِ جاہلیت کی یہ عادت تھی کہ طبعی ناپسندیدگی کی وجہ سے اشیاء کو چھوڑ دیا کرتے تھے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اس میں حلال و حرام واضح بیان کر دیئے، چنانچہ جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے حلال کی ہیں وہ حلال ہیں اور جو اس نے حرام کی ہیں وہ حرام ہیں اور جن کے بارے میں خاموشی ہے وہ معاف ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗٓ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ) (الانعام: 145) مگر یہ کہ مردار ہو یا رگوں کا بہتا خون یا بد جانور کا گوشت وہ نجاست ہے یا وہ بے حکمی کا جانور جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا تو جو ناچار ہوا نہ یوں کہ آپ خواہش کرے اور نہ یوں کہ ضرورت سے بڑھے تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3275]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3275 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: لجابر بن عبد الله، وهو تحريف، وجاء على الصواب كما أثبتناه في "السنن الكبرى" للبيهقي 9/ 330 حيث رواه عن المصنف بإسناده ومتنه، وهو كذلك في "مسند الحميدي" (859)، وكذا عند البخاري (5529) من روايته عن علي بن المديني عن سفيان: وهو ابن عيينة، وجابر بن زيد: هذا هو أبو الشعثاء البصري، أحد كبار تلامذة ابن عباس.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "لجابر بن عبدالله" ہے، اور یہ تحریف ہے۔ درست وہ ہے جو ہم نے ثابت کیا ہے، جیسا کہ بیہقی کی "السنن الكبرى" 9/ 330 میں آیا ہے (جہاں انہوں نے اسے مصنف سے ان کی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے)، اور اسی طرح "مسند حمیدی" (859) میں ہے، اور اسی طرح بخاری (5529) میں ان کی علی بن المدینی عن سفیان (ابن عیینہ) سے روایت میں ہے۔ جابر بن زید سے مراد ’ابو الشعثاء البصری‘ ہیں، جو ابن عباس کے کبار تلامذہ میں سے ہیں۔
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرج الشطر الأول منه أحمد 29/ (17861)، والبخاري (5529) من طريق سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اور اس کا پہلا حصہ احمد نے 29/ (17861) اور بخاری نے (5529) میں سفیان بن عیینہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه كذلك أبو داود (3808) من طريق ابن جريج، عن عمرو بن دينار، به. وسيأتي عند المصنف برقم (6415) من طريق حماد بن زيد عن عمرو بن دينار.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے ابوداؤد نے (3808) میں ابن جریج کے طریق سے، انہوں نے عمرو بن دینار سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اور یہ مصنف کے ہاں آگے نمبر (6415) پر حماد بن زید عن عمرو بن دینار کے طریق سے آئے گا۔
والشطر الثاني منه -وهو قوله: قد كان أهل الجاهلية … إلخ- سيأتي عند المصنف برقم (7291) من طريق محمد بن شريك عن عمرو بن دينار، وفيه بيانُ أنه من قول ابن عباس رواه عنه أبو الشعثاء.
🧾 تفصیلِ روایت: اور اس کا دوسرا حصہ (جو ان کا قول ہے: "اہل جاہلیت کیا کرتے تھے..." الخ) آگے مصنف کے ہاں نمبر (7291) پر محمد بن شریک عن عمرو بن دینار کے طریق سے آئے گا، اور اس میں بیان ہے کہ یہ ابن عباس کا قول ہے جسے ان سے ابو الشعثاء نے روایت کیا ہے۔
قلنا: الذي كان يأباه ابنُ عبَّاس ﵄ فيما يُروى من النهي عن لحوم الحمر الأهلية هو أنها محرَّمة لذاتها، فقد كان يتردَّد في سبب النهي كما روى البخاري في "صحيحه" (4227) من طريق الشعبي عنه قال: لا أدري أَنَهى عنه رسول الله ﷺ -أي: عن لحم الحُمر الأهليَّة يوم خيبر- من أجل أنه كان حَمُولةَ الناس فكره أن تذهب حمولتُهم، أو حرَّمه؟! وإلّا فالنهي عن لحومها قد جاء مرويًا عن عشرة من الصحابة غير الحكم أو أكثر، وكلها أحاديث صحيحة أخرجها الشيخان وغيرهما، وقد أزال هذا التردُّدَ الذي وقع لابن عبَّاس حديثُ أنس بن مالك عند البخاري (4198) و (5528) حيث جاء فيه مرفوعًا: "فإنها رِجْس"، وكذا الأمر بغسل الإناء من أثرها في حديث سلمة بن الأكوع عند البخاري أيضًا (4196)، وهذا حكم المتنجِّس، فيستفاد من هذين الحديثين تحريم أكلها، وهما دالَّان على تحريمها لعينها لا لمعنًى آخر، كما قال غير واحد من أهل العلم فيما نقله الحافظ ابن حجر في "الفتح" 17/ 116، وانظر بقية كلامه هناك في الردِّ على الاستدلال بآية الأنعام.
📝 نوٹ / توضیح: ہم کہتے ہیں: پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کے بارے میں جو روایات ہیں، ان میں ابن عباس رضی اللہ عنہما جس چیز کا انکار کرتے تھے وہ یہ ہے کہ یہ اپنی ذات میں حرام ہے؛ کیونکہ وہ ممانعت کے سبب میں متردد تھے، جیسا کہ بخاری نے "صحیح" (4227) میں شعبی کے طریق سے ان سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا: "میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے (یعنی خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت سے) اس لیے منع کیا کہ وہ لوگوں کی سواری تھے تو آپ نے ناپسند کیا کہ ان کی سواری چلی جائے، یا آپ نے اسے حرام کیا؟!" ورنہ ان کے گوشت سے ممانعت تو حکم کے علاوہ دس صحابہ یا اس سے زیادہ سے مروی ہے، اور وہ سب صحیح احادیث ہیں جنہیں شیخین وغیرہ نے تخریج کیا ہے۔ اور ابن عباس کو جو تردد لاحق ہوا تھا اسے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث نے دور کر دیا جو بخاری (4198) اور (5528) میں مرفوعاً آئی ہے: "بے شک وہ رجس (ناپاک) ہے"۔ اسی طرح سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی حدیث میں (جو بخاری 4196 میں ہے) برتنوں کو ان کے اثر سے دھونے کا حکم ہے، اور یہ متنجس (ناپاک چیز) کا حکم ہے۔ لہذا ان دونوں احادیث سے ان کے کھانے کی حرمت مستفاد ہوتی ہے، اور یہ دونوں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اپنی ذات کی وجہ سے حرام ہیں نہ کہ کسی اور معنی کی وجہ سے، جیسا کہ کئی اہل علم نے کہا ہے (جسے حافظ ابن حجر نے "الفتح" 17/ 116 میں نقل کیا ہے)۔ اور ان کا باقی کلام وہاں دیکھیں جو آیت انعام سے استدلال کے رد میں ہے۔