🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
107. شأن نزول : ( إن تستفتحوا فقد جاءكم الفتح )
آیت“اگر تم فتح مانگتے تھے تو وہ فتح تمہارے پاس آچکی”کے نازل ہونے کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3303
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن الزُّهْري. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي -واللفظ له- حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أَبي، حدثني يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثني أَبي، حدثني صالح، عن ابن شهاب، حدثني عبد الله بن ثَعْلبة بن أبي صُعَير العُذْري قال: كان المستفتِحَ أبو جهل، فإنه قال حين الْتَقى القومُ: اللهمَّ أيُّنا كان أقطع للرَّحِم، وآتانا بما لا نَعرِف، فأَحِنْه الغَداةَ، فكان ذلك استفتاحَه، فأنزل الله: ﴿إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ﴾ إلى قوله: ﴿وَأَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [الأنفال: 19] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3264 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن ثعلبہ بن ابی صعیر العذری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: فیصلے کا طلبگار ابوجہل تھا کیونکہ جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو اسی نے کہا تھا اے اللہ! ہم میں جو قاطع رحم ہے اور جو غیر معروف پیغام لایا ہے تو کل اس کو ذلیل فرما، یہی اس کی فیصلے کی طلب تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآئَکُمُ الْفَتْحُ (الانفال: 19) اگر تم فیصلہ مانگتے ہو تو یہ فیصلہ تم پر آ چکا ۔ ، (وَ اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ) (الانفال: 19) اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے ۔ تک۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3303]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3303 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح، وعبد الله بن ثعلبة قيل: له صحبة، وقيل: بل رؤية. صالح: هو ابن كيسان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: عبداللہ بن ثعلبہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہیں "صحبت" حاصل ہے، اور (بعض نے) کہا کہ صرف "رویت" (دیدارِ نبی ﷺ) حاصل ہے۔ صالح: یہ ابن کیسان ہیں۔
وأخرجه أحمد 39/ (23661) عن يزيد بن هارون، بإسناده. وصرَّح ابن إسحاق عنده بالتحديث.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (39/ 23661) نے یزید بن ہارون سے، ان کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور ان کے ہاں ابن اسحاق نے تحدیث (سماع) کی تصریح کی ہے۔
وأخرجه النسائي (11137) عن عبيد الله بن سعد بن إبراهيم، عن عمه -وهو يعقوب بن إبراهيم- بإسناده.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے نسائی (11137) نے عبیداللہ بن سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے اپنے چچا - یعقوب بن ابراہیم - سے، ان کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔