المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
124. مثل أهل بيتي مثل سفينة نوح
میرے اہلِ بیت کی مثال نوح کی کشتی کی مانند ہے
حدیث نمبر: 3352
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحسن بن موسى الأشيَب، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن داود بن أبي هند، عن أبي العاليَة، عن عبد الله بن عبَّاس: أنَّ رسول الله ﷺ أَتى على وادي الأزرق، فقال:"ما هذا؟" قالوا: وادي الأزرق، فقال:"كأني أنظرُ إلى موسى بن عِمرانَ مُنهبِطًا له جُؤَارٌ إلى الله بالتَّكبير"، ثم أتى على ثَنِيَّةٍ فقال:"ما هذه الثَّنيَّة؟"، قالوا: ثنيَّةُ كذا وكذا، فقال:"كأني أنظرُ إلى يونُسَ بنِ مَتَّى على ناقةٍ حمراءَ جَعْدَةٍ خِطامُها لِيفٌ وهو يُلبِّي وعليه جُبَّةُ صوفٍ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3313 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3313 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی ازرق کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: یہ کون سا مقام ہے؟ لوگوں نے جواب دیا یہ ” وادی ازرق “ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا کہ میں سیدنا موسیٰ بن عمران رضی اللہ عنہ کو اترتے ہوئے دیکھ رہا ہوں اور وہ بلند آواز سے تکبیر پڑھ رہے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ” ثنیہ “ پر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سی جگہ ہے؟ لوگوں نے کہا: فلاں فلاں ثنیہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا کہ سیدنا یونس بن متی کو سرخ رنگ کی گھنگریالے بالوں والی اونٹنی پر سوار دیکھ رہا ہوں، جس کی لگام کھجوری چھال کی ہے اور آپ تلبیہ کہہ رہے ہیں اور آپ اونی جبہ زیب تن کیے ہوئے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3352]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3352 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو العالية: هو رُفيع بن مِهران.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابوالعالیہ: یہ رفیع بن مہران ہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (1854)، ومسلم (166) (268) و (269)، وابن ماجه (2891)، وابن حبان (3801) من طرق عن داود بن أبي هند بهذا الإسناد. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (3/ 1854)، مسلم (166/ 268، 269)، ابن ماجہ (2891) اور ابن حبان (3801) نے داود بن ابی ہند سے مختلف طرق کے ساتھ اسی سند سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا ذہول (بھول) ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (4168).
📖 حوالہ / مصدر: اور جو آگے رقم (4168) پر آئے گا اسے دیکھ لیں۔
وادي الأزرق: وادٍ في الحجاز قريب من مكة.
📝 نوٹ / توضیح: وادیِ ازرق: یہ حجاز میں مکہ کے قریب ایک وادی ہے۔
والجُؤَار: رفع الصوت والاستغاثة.
📝 نوٹ / توضیح: الجُؤَار: آواز بلند کرنا اور فریاد کرنا۔