المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
134. تفسير سورة إبراهيم عليه السلام
سورۂ ابراہیم علیہ السلام کی تفسیر
حدیث نمبر: 3375
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا يزيد بن أبي حَكيم، حدثنا الحَكَم بن أَبان قال: سمعت عِكرمةَ يقول: قال ابن عبَّاس: إنَّ الله فَضَّلَ محمدًا ﷺ على أهل السماء وفَضَّله على أهل الأرض، قالوا: يا أبا عبَّاس، بما فضَّله الله على أهل السماء؟ قال: قال الله ﷿: ﴿وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾ [الأنبياء: 29] ، وقال لمحمد ﷺ: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (1) لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ الآية، قالوا: فبما فضَّله الله على أهل الأرض؟ قال: إِنَّ الله ﷿ قال: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ﴾ الآية [إبراهيم: 4] ، وقال لمحمد ﷺ: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا﴾ [سبأ: 28] ، فأرسله إلى الجنِّ والإنس (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ الحكم بن أبان قد احتَجَّ به جماعةٌ من أئمة الإسلام، ولم يُخرِّجه الشيخان.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3335 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ الحكم بن أبان قد احتَجَّ به جماعةٌ من أئمة الإسلام، ولم يُخرِّجه الشيخان.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3335 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان والوں پر اور زمین والوں پر فضیلت دی ہے۔ لوگوں نے پوچھا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان والوں پر کیسے فضیلت دی ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْھُمْ اِنِّیْٓ اِٰلہٌ مِّنْ دُوْنِہٖ فَذٰلِکَ نَجْزِیْہِ جَھَنَّمَ کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ (الانبیاء: 29) ” اور ان میں جو کوئی کہے کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں تو اسے ہم جہنم کی سزا دیں گے، ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ستمگاروں کو “۔ اور اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فرمایا ہے: اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا لِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَا وَمَا تَاَخَّرَ (الفتح: 1) ” بے شک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح فرما دی۔ تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے “۔ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو زمین والوں پر کیسے فضیلت دی ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ) (ابراہیم: 4) ” اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا “۔ اور محمد کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا (سبا: 28) ” اور اے محبوب ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا “۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جنات اور انسانوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا کیونکہ ائمہ اسلام کی ایک جماعت نے حکم بن ابان کی روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3375]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3375 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده جيد. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عمدہ (جید) ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اسحاق بن ابراہیم: یہ ابن راہویہ ہیں۔
وأخرجه الدارمي (47) عن إسحاق بن إبراهيم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دارمی (47) نے اسحاق بن ابراہیم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني (11610) من طريق منجاب بن الحارث، عن يزيد بن أبي حكيم، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی (11610) نے منجاب بن حارث کے طریق سے، یزید بن ابی حکیم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو يعلى (2705) مختصرًا من طريق إبراهيم بن يحيى - وهو العَدَني - والبيهقي في "شعب الإيمان" (149)، و"دلائل النبوة" 5/ 486 من طريق حفص بن عمر العدني، كلاهما عن الحكم بن أبان العدني، به. وإبراهيم وحفص كلاهما ضعيف، وحفص أشدّهما ضعفًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابویعلیٰ (2705) نے مختصراً ابراہیم بن یحییٰ (العدنی) کے طریق سے، اور بیہقی نے "شعب الایمان" (149) اور "دلائل النبوۃ" (5/ 486) میں حفص بن عمر العدنی کے طریق سے روایت کیا ہے؛ دونوں حکم بن ابان العدنی سے روایت کرتے ہیں۔ ⚖️ درجۂ حدیث: ابراہیم اور حفص دونوں ضعیف ہیں، اور حفص زیادہ ضعیف ہے۔