المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
159. علم الأنبياء فى جنب علم الله كقطرة ماء من البحر
اللہ کے علم کے مقابلے میں انبیاء کا علم سمندر میں ایک قطرے کے برابر ہے
حدیث نمبر: 3434
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ حدثنا أبو عِمران موسى بن هارون بن عبد الله الحافظ، حدثني أَبي، حدثنا أبو داود الطَّيالسي، حدثنا ابن عُيَينة، عن عَمْرو بن دينار، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس قال: حدثني أُبيٌّ، أنَّ النبي ﷺ قال:"لمَّا لَقِيَ موسى الخَضِرَ ﵇ جاء طيرٌ فأَلقى مِنقارَه في الماء، فقال الخضرُ لموسى: تَدبَّرْ ما يقولُ هذا الطائرُ، قال: وما يقول؟ قال: يقول: ما عِلمُكَ وعِلمُ موسى في عِلْم الله إلّا كما أَخَذَ مِنقارِي من الماء" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3394 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3394 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان نقل کیا ہے: جب موسیٰ علیہ السلام سیدنا خضر علیہ السلام سے ملے تو ایک پرندہ آیا اور اس نے اپنی چونچ پانی میں ڈال دی۔ خضر علیہ السلام نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہا: غور کیجیے! یہ پرندہ کیا کہہ رہا ہے؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: یہ کیا کہہ رہا ہے؟ انہوں نے کہا: تمہارا علم اور موسیٰ علیہ السلام کا علم اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں اتنی ہی نسبت رکھتا ہے جو حیثیت میری چونچ میں آنے والے پانی کی اس دریا کے مقابلے میں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3434]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3434 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه البخاري (3401) و (4725) و (4727)، ومسلم (2380) (170)، والترمذي (3149)، وعبد الله بن أحمد في زياداته على "المسند" (35/ 21114)، والنسائي (11245)، وابن حبان (6220) من طرق عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد - ضمن حديث طويل. فاستدراك الحاكم له ذهول منه.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج بخاری (3401، 4725، 4727)، مسلم (2380/ 170)، ترمذی (3149)، عبد اللہ بن احمد نے "زوائد مسند" (35/ 21114)، نسائی (11245) اور ابن حبان (6220) نے مختلف طرق سے سفیان بن عیینہ سے، اسی سند کے ساتھ - ایک طویل حدیث کے ضمن میں کی ہے۔ 📌 اہم نکتہ: لہٰذا حاکم کا اسے مستدرک کہنا ان کا "ذہول" (بھول) ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد (21119)، والبخاري (4726) من طريق ابن جريج، عن يعلى بن مسلم وعمرو بن دينار، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے عبد اللہ بن احمد (21119) اور بخاری (4726) نے ابن جریج کے طریق سے، یعلیٰ بن مسلم اور عمرو بن دینار سے، اسی سند و متن کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (11243) من طريق عبد الله بن عبيد الأنصاري، عن سعيد بن جبير، به - ولم يذكر فيه أُبيَّ بن كعب، وجعله من حديث ابن عبَّاس.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے نسائی (11243) نے عبد اللہ بن عبید انصاری کے طریق سے، سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے، مگر اس میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا اور اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث (مسند) بنا دیا ہے۔