المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
209. أحوال أنوار المؤمنين وظلمات الكافرين يوم القيامة
قیامت کے دن مومنوں کے نور اور کافروں کی تاریکیوں کے حالات
حدیث نمبر: 3553
أخبرني الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا صفوان بن عمرو، حدَّثني سُلَيم بن عامر قال: خَرَجْنا على جنازةٍ في باب دمشق معنا أبو أُمامة الباهلي، فلما صلَّى على الجنازة وأَخذوا في دفنها قال أبو أُمامة: يا أيها الناس، إنكم قد أصبحتُم وأمسيتُم في منزلٍ تقتسمون فيه الحسناتِ والسيِّئاتِ، وتُوشِكُون أن تَطعنَوا منه إلى المنزلِ الآخَر، وهو هذا - يشير إلى القَبْر - بيتُ الوَحْدة وبيتُ الظُّلْمة، وبيتُ الدُّود وبيت الضِّيق إلَّا ما وَسَّعَ الله، ثم تنتقلون منه إلى مواطنِ يوم القيامة، فإنكم لَفِي بعضِ تلك المواطنِ حتى يَغشَى الناسَ أمرٌ من أمرِ الله، فتَبيَضُّ وجوهٌ وتسوَدُّ وجوهٌ، ثم تنتقلون منه إلى منزلٍ آخرَ فيغشى الناسَ ظلمةٌ شديدة، ثم يُقسَمُ النُّورُ، فيُعطَى المؤمنُ نورًا ويُترك الكافرُ والمنافقُ فلا يُعطَيانِ شيئًا، وهو المَثَلُ الذي ضرب اللهُ في كتابه: ﴿أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا وَمَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُورٍ﴾، ولا يستضيءُ الكافرُ والمنافقُ بنور المؤمن كما لا يستضيءُ الأعمى ببَصَرِ البصير، يقول المنافق للذين آمنوا: ﴿انْظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُورِكُمْ قِيلَ ارْجِعُوا وَرَاءَكُمْ فَالْتَمِسُوا﴾ [الحديد: 13] ، وهي خَدْعة [الله] (1) التي خَدَع بها المنافقَ، قال الله ﷿: ﴿يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ﴾ [النساء: 142] ، فيَرجِعون إلى المكان الذي قُسِمَ فيه النورُ فلا يَجِدُون شيئًا، فينصَرِفون إليهم وقد ضُرِبَ بينهم ﴿بِسُورٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ (13) يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُنْ مَعَكُمْ﴾ نصلِّي بصلاتِكم ونَغزُو بمَغازِيكم ﴿قَالُوا بَلَى وَلَكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ أَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْأَمَانِيُّ حَتَّى جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ وَغَرَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ﴾ تلا إلى قوله: ﴿وَبِئْسَ الْمَصِيرُ﴾ [الحديد: 13 - 15] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3511 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3511 - صحيح
سیدنا سلیم بن عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم باب دمشق میں ایک جنازہ میں شریک تھے، ہمارے ہمراہ سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب نماز جنازہ ہو چکی اور لوگوں نے اس کی تدفین شروع کی تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بولے: اے لوگو! تم ایک ایسے مقام پر صبح اور شام کرتے ہو جہاں نیکیاں اور گناہ تقسیم ہوتے ہیں، عنقریب تم وہاں سے دوسرے مقام کی طرف کوچ کر جاؤ گے اور قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ وہ مقام ہے، یہ تنہائی کا گھر ہے، اندھیرے، تنگی اور کیڑوں کا گھر ہے۔ سوائے اس کے کہ جس کے لیے اللہ تعالیٰ وسعت کر دے۔ پھر یہاں سے قیامت کے دن اور مقام کی طرف منتقل کر دیئے جاؤ گے، ان مقامات میں ایک مقام میں تم ہو گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر ان سب کو ڈھانپ لے گا پھر کچھ چہرے سفید ہو جائیں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہو جائیں گے، پھر وہاں سے ایک اور مقام کی طرف منتقل کیا جائے گا پھر لوگوں کو شدید اندھیرا ڈھانپ لے گا، رحمۃ اللہ علیہما پھر نور تقسیم کیا جائے گا، رحمۃ اللہ علیہما مومن کو نور دیا جائے گا اور کافر اور منافق کو چھوڑ دیا جائے گا، رحمۃ اللہ علیہما ان کو کچھ نہیں دیا جائے گا۔ اسی کی مثال اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان الفاظ میں بیان کی ہے: اَوْ کَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰہُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہٖ سَحَابٌ ظُلُمٰتٌ بَعْضُھَا فَوْقَ بَعْضٍ اِذَآ اَخْرَجَ یَدَہٗ لَمْ یَکَدْ یَرٰھَا وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰہُ لَہٗ نُوْرًا فَمَا لَہٗ مِنْ نُّوْرٍ (النور: 40) ” یا جیسے اندھیریاں کسی کنڈے کے (گہرائی والے) دریا میں اس کے اوپر موج، موج کے اوپر اور موج، اس کے اوپر بادل، اندھیرے ہیں ایک پر ایک، جب اپنا ہاتھ نکالے تو سوجھائی (دکھائی) دیتا معلوم نہ ہو اور جسے اللہ نور نہ دے اس کے لیے کہیں نور نہیں “۔ اور کافر اور منافق، مومن کے نور سے روشنی حاصل نہیں کر سکیں گے جس طرح کہ اندھا انکھیارے کی بینائی سے کچھ روشنی حاصل نہیں کر سکتا۔ منافق، مومن سے کہے گا: ہمیں ایک نگاہ دیکھو کہ ہم تمہارے نور سے کچھ حصہ لیں، کہا جائے گا: اپنے پیچھے لوٹو وہاں نور ڈھونڈو۔ یہ ایک دھوکہ ہو گا جو منافق کو (اس کے اعمال کے بدلے کے طور پر) دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ (النساء: 142) ” بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دینا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کر کے مارے گا “۔ وہ اس جگہ کی طرف پلٹ کر آئیں گے جہاں نور بٹ رہا تھا لیکن وہاں پر یہ کچھ نہ پائیں گے۔ یہ دوبارہ لوٹ کر مومن کے پاس آئیں گے لیکن اس وقت تک ان کے اور مومنوں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا، اس کی اندر کی جانب رحمت ہی رحمت ہو گی اور اس کی باہر کی طرف عذاب ہو گا۔ یہ منافق ان کو آوازیں دیں گے: کیا ہم تمہارے ہمراہ نمازیں نہیں پڑھا کرتے تھے؟ اور تمہارے ہمراہ جہاد نہیں کیا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں مگر تم نے تو اپنی جانیں فتنہ میں ڈالیں اور مسلمانوں کی برائی تکتے اور شک رکھتے اور جھوٹی طمع نے تمہیں فریب دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ گیا اور تمہیں اللہ کے حکم پر اس بڑے فریبی نے مغرور رکھا یہ آیت:” وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ “ تک تلاوت کی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3553]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3553 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) زيادة من "الأسماء والصفات" للبيهقي حيث رواه عن المصنف بإسناده ومتنه، وهي كذلك في "زهد ابن المبارك".
📖 حوالہ / مصدر: یہ اضافہ بیہقی کی "الاسماء والصفات" سے لیا گیا ہے جہاں انہوں نے مصنف کی سند اور متن سے روایت کیا ہے، اور یہ ابن مبارک کی "الزہد" میں بھی موجود ہے۔
(2) إسناده صحيح. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابو الموجِّہ سے مراد محمد بن عمرو فزاری ہیں، عبدان سے مراد عبد اللہ بن عثمان مروزی ہیں، اور عبد اللہ سے مراد ابن مبارک ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "الأسماء والصفات" (1015)، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 72/ 262 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وهو في "الزهد" لابن المبارك (368 - برواية نعيم)، ومن طريق ابن المبارك أخرجه ابن أبي الدنيا في "الأهوال" (99) من طريق علي بن الحسن بن شقيق، وابن أبي حاتم كما في "تفسير ابن كثير" 8/ 42 من طريق عبدة بن سليمان، كلاهما عن ابن المبارك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "الاسماء والصفات" (1015) میں، اور ان کے طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (72/ 262) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ یہ ابن مبارک کی "الزہد" (368 - بروایت نعیم) میں بھی ہے۔ ابن مبارک کے طریق سے اسے ابن ابی الدنیا نے "الأہوال" (99) میں علی بن حسن بن شقیق کے واسطے سے، اور ابن ابی حاتم (بحوالہ "تفسیر ابن کثیر" 8/ 42) نے عبدہ بن سلیمان کے واسطے سے تخریج کیا ہے۔