المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
279. أسباب نزول هاروت وماروت على وجه الأرض
ہاروت اور ماروت کے زمین پر نازل ہونے کے اسباب
حدیث نمبر: 3698
حَدَّثَنَا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي، حَدَّثَنَا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حَدَّثَنَا أبو أحمد الزُّبَيري، حَدَّثَنَا عمران بن زائدة بن نَشِيط، عن أبيه، عن أبي خالد الوالِبيّ، عن أبي هريرة قال: تلا رسولُ الله ﷺ: ﴿مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ﴾ [الشورى: 20] ، ثم قال رسول الله ﷺ:"يقول الله ﷿: ابنَ آدمَ، تفرَّغْ لعبادتي أَملأْ صدرَك غِنًى، وأَسُدَّ فقرَك، وإلَّا تفعلْ ملأتُ صدرَك شُغلًا، ولم أَسدَّ فقرَك" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3657 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3657 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ نَزِدْ لَہٗ فِیْ حَرْثِہٖ وَ مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤتِہٖ مِنْھَا وَ مَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ نَّصِیْبٍ (الشوریٰ: 20) ” جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہے ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے بندے تو میری عبادت کے لئے فراغت اختیار کر میں تیرا سینہ غنا سے بھر دوں گا اور تیرے فقر کو ختم کر دوں گا اور اگر تو ایسا نہیں کرے گا تو میں تیرا سینہ مصروفیت سے بھر دوں گا اور تیرے فقر کو بھی نہیں روکوں گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3698]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3698 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده محتمل للتحسين من أجل زائدة بن نشيط، والد عمران، فقد روى عنه اثنان، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وأبو خالد الوالبي روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال أبو حاتم الرازي: صالح الحديث. أبو أحمد الزبيري: هو محمد بن عبد الله بن الزبير الأسدي مولاهم. وأخرجه أحمد 14 / (8696) عن أبي أحمد محمد بن عبد الله الزبيري، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: "زائدہ بن نشیط" (عمران کے والد) کی وجہ سے اس میں "تحسین" کا احتمال ہے۔ (ان سے دو راویوں نے روایت کیا، ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا)۔ ابو خالد والبی (راویوں نے روایت کیا، ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا، ابو حاتم نے صالح الحدیث کہا)۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابو احمد زبیری سے مراد محمد بن عبد اللہ بن زبیر اسدی ہیں۔ اسے احمد (14/ 8696) نے ابو احمد زبیری سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (4107)، والترمذي (2466)، وابن حبان (393) من طريقين عن عمران بن زائدة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (4107)، ترمذی (2466)، اور ابن حبان (393) نے عمران بن زائدہ کے واسطے سے دو طرق سے تخریج کیا ہے۔
ورواه أبو أسامة حماد بن أسامة - كما في "علل الدارقطني" (1596) - عن عمران بن زائدة موقوفًا على أبي هريرة.
📖 حوالہ / مصدر: ابو اسامہ حماد بن اسامہ نے (علل الدارقطنی 1596) میں عمران بن زائدہ سے اسے ابو ہریرہ پر "موقوف" روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن معقل بن يسار، وسيأتي عند المصنّف برقم (8124)، وسنده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں معقل بن یسار کی روایت بھی ہے، جو مصنف کے ہاں آگے (8124) پر آئے گی، اور اس کی سند "ضعیف" ہے۔