🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
291. إن لله ثلاثة أثواب
اللہ کے تین لباس ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3726
حَدَّثَنَا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بكَّار بن قُتيبة القاضي، حَدَّثَنَا صفوان بن عيسى، حَدَّثَنَا ابن عَجْلان، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة رَفَعَه قال:"إنَّ الله ثلاثةَ أثواب: اتَّزَرَ العزّةَ، وتَسَربَلَ الرَّحمةَ، وارتَدى الكبرياءَ، فمن تَعزَّزَ بغير ما أعزَّه الله، فذلك الذي يقال له: ﴿ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ﴾ [الدخان: 49] ، ومن رَحِمَ الناسَ ﵀، فذلك الذي تَسَربَل بسِرْباله الذي يَنبَغي له، ومن نازَعَ الله رداءَه الذي يَنبَغي له فإنَّ الله يقول: لا يَنبَغِي لمن نازَعَني أَن أُدخِلَه الجنةَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3685 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے تین لباس ہیں۔ اس کا ازار عزت کا ہے رحمت کی تلوار (جیسے اس کی شان کے مطابق ہو) ہے اور کبریائی کی چادر ہے اور جو شخص اس چیز کے غیر میں عزت ڈھونڈے، جس میں اللہ تعالیٰ نے عزت رکھی ہے، اسی کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ذُقْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ (الدخان: 49) چکھ، ہاں ہاں تو ہی بڑا عزت والا کرم والا ہے۔ اور جو شخص ایسے مقام پر رحم کرے جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحم کرنے کی اجازت نہیں ہے تو یہ وہ شخص ہے جس نے وہ لباس پہننے کی کوشش کی ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی شایان شان ہے۔ اور جو شخص وہ چادر چھینتا ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کے لائق ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو مجھ سے یہ چادر چھینے گا میں اس کو جنت میں داخل نہیں کروں گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3726]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3726 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر قوي، لكن من رواية أبي هريرة عن كعب الأحبار من قوله، وليس مرفوعًا إلى النَّبِيّ ﷺ.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر "قوی" ہے، لیکن یہ ابو ہریرہ کی کعب احبار سے روایت ہے (یعنی کعب کا قول ہے)، نبی کریم ﷺ تک مرفوع نہیں ہے۔
هكذا رواه محمد بن بشار بندار عن صفوان بن عيسى فيما أخرجه الطبري في "تفسيره" 25/ 134 - 135. ومحمد بن بشار أسندُ وأقعد في الحديث من بكار بن قتيبة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے محمد بن بشار بندار عن صفوان بن عیسیٰ نے اسی طرح روایت کیا ہے جیسا کہ طبری "تفسیر" (25/ 134-135) میں ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن بشار، بکار بن قتیبہ کی نسبت حدیث میں زیادہ مضبوط (اسند) اور پختہ (اقعد) ہیں۔
لكن تابع بكّارًا على رفعه أحمد بن عبدة الضبي فيما أخرجه أبو منصور الديلمي في "مسند الفردوس" كما في "الغرائب الملتقطة" لابن حجر (810) من طريق بكر بن عبد الوهاب القزاز عنه.
🧩 متابعات و شواہد: لیکن بکار کی متابعت "احمد بن عبدہ ضبی" نے اسے مرفوع کرنے میں کی ہے، جسے ابو منصور دیلمی نے "مسند الفردوس" میں (بحوالہ: الغرائب الملتقطة، ابن حجر: 810) بکر بن عبد الوہاب قزاز کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وبكر هذا على ثقته ربما أخطأ في الحديث كما نقل السَّهمي عن الدارقطني في "سؤالاته" (210).
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ بکر (قزاز) اپنی ثقاہت کے باوجود حدیث میں کبھی کبھی غلطی کر جاتے ہیں جیسا کہ سہمی نے دارقطنی سے "سؤالات" (210) میں نقل کیا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (7810) عن أبي عبد الله الحاكم، بإسناده ومتنه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (7810) میں ابو عبد اللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر حديث أبي هريرة السالف برقم (204).
📖 حوالہ / مصدر: ابو ہریرہ کی سابقہ حدیث نمبر (204) ملاحظہ کریں۔